یار بیزار ہے یوں مجھ میں سسکتا ہوا دکھ
آنکھ سے بہتا نہیں دل پہ گزرتا ہوا دکھ
میں ترے بعد ذرا سوچ کدھر جاؤں گا
کون لیتا ہے کسی اور کا چھوڑا ہوا دکھ؟
دل کا دامن تیری جھاڑی سے الجھا ہے تو پھر
مدتیں بیت گئیں ہم سے چھڑایا نا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ہزار جال لئے گھومتی پھرے دُنیا
ترے اسیر کسی کے ہُوا نہیں کرتے
جتنی رازداری سے رابطے بڑھاتی ہے
دیکھ کر ہی لگتا ہے آنکھ وارداتی ہے
یہ بھی کیاکم ہےستم کہ وہ ہمارا نہیں ہوا
اُس پر یہ قیامت کے عشق دوبارا نہیں ہوا
ملنا بچھڑنا توچلو مقدر کا کھیل ٹہھرا
ہمیں توقیاس میں بھی مثبت اشارہ نہیں ہوا
پہلے تو ہم نے دل کو دلیلیں ہزار دیں
پھر دل کی بات مان کے دھوکے میں آ گئے🥀
`° تیرا لہجہ یاد کرواتا ہے
`° وہ کڑوی دوائیاں بچپن کی ۔🥀
__ 😓💔"
دنیا کا سب سے پرسکون انسان بننا چاہتے ہیں۔
تو ان باتوں پر عمل کریں۔
1 اپنے دن کی شروعات نماز فجر اور صبح کے اذکار سے کیجئے تاکہ آپ فلاح و کامرانی سے سرفراز ہو سکیں۔
2 برابر استغفار کرتے رہیں تاکہ شیطان آپ سے مکمل مایوس ہو جائے۔
3- دعا کرنا کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ یہیں نجات رات کا راستہ ہے۔
4- یاد رکھئے آپ کی زبان سے نکلنے والے ہر ہر لفظ کو فرشتے لکھ رہے ہیں۔
5- ہمیشہ اچھی امید رکھیں اگرچہ آپ کتنے ہی مشکل حالات سے دوچار ہوں۔
6- انگلیوں کی خوبصورتی اس کے ذریعے تسبیح کرنے میں ہے۔
7- جب غموں کا ہجوم ہو اور مشکلات کی آمد ہو تو لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھیں ۔
8- غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرکے ان سے دعائیں اور محبتیں حاصل کریں۔
9-کچھ بولنے سے پہلے سوچیں کیونکہ الفاظ بھی قاتل ہوتے ہیں۔
10- مظلوم کی بددعا اور محروم کے آنسو سے بچو۔
عادتوں کی طاقت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انھیں چھوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔🥀🥀🥀
کوئی حد نہیں عمر کی کوئی ذات کا لحاظ نہیں
عشق نے جسے چاہا اسے سر عام نچایا ہے...
-" وہ غلافِ کعبہ کا حُسن، وہ زم زم کا پانی،
وہ مدینہ کی گلیاں، وہ کعبہ کی ٹھنڈی ہوائیں...♥️
اللّٰہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائیں...🤲♥️ "•
-" آمین ثم آمین...🤲😇♥️ "•
سَکُوت لہجہ، اَدُھوری آنکھیں، جَمود سوچِیں خیال تِیرا
اَلفاظ بِکھرے، مِزاج مَدھّم،. ناراض مَوجِیں خیال تیرا
عَذاب لَمحے، خِراج آھیں، بَرات خوشیاں، جِہات بَرہم
تَمّنا رُخصَت، دَفن اُمیدیں، بـےرَنگ سَوچِیں خیال تِیرا
جَوان رَنجِش و دَرد تازہ، اُدھار سانسِیں، جُھلستا آنگن
وِیران دَامن، اُجاڑ پہلو، وُہ تِیری کَھوجِیں خیال تِیرا
سَوال عادت، جَواب حِکمت، عِلاج دَرشن، مریض عُجلت جَمال مَقّصُود، حسن مَفقُود، نِگاھیں پُوچھیں خیال تِیرا
اَنجان راھیں، فَریب بانہیں، نَقاب چِہرے، سَرد نِگاھیں
ہَمدرد بارش، ہےدِلکی خواھش، پلٹ کے لَوٹےخیال تِیرا
اَصنام پَتھر، قُلوب پَتھر، اَنّائیں پَتھر، اِنسان پَتھر
سَکُون دِلبر، نرم کلامی،.. گَداز سوچِیں خیال تِیرا
زوال دُوری، کمال جِینا،...... مُحال سہنا، وَبال کہنا
وُہ تلخ لمحے، زہر لہومیں تریاق چاہیں
لفظ سے بِھی ... خراش پَڑتی ہے ...
تبصرہ ...... سوچ کر کیا کیجٸے
جُھوٹ سے بِھی بُرا ہے ... آدھا سَچ
اِس سے بہتر ہے ... چُپ رہا کیجٸے
امجد اسلام امجد
سورت یوسف پڑھ کر لگتا ہے کہ سگے حسد کر سکتے ہیں۔ اپنے ہلاکت میں ڈال سکتے ہیں۔ غیر نجات دلا سکتے ہیں۔ پارسا پر تہمت لگائی جا سکتی ہے۔بلا جرم قید ہو سکتی ہے۔غیبی مدد سے براءت مل سکتی ہے۔ظلم سہ کر عظیم منصب مل سکتا ہے۔ تقویٰ سے عزت کا حصول ہو سکتا ہے۔عزیز جدا ہو سکتا ہے۔ ہجر کاٹا جا سکتا ہے۔ بچھڑا مل سکتا ہے اور ہر خواب پورا سکتا ہے.
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے
عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے
ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے
کم نہیں طمع عبادت بھی تو حرص زر سے
فقر تو وہ ہے کہ جو دین نہ دنیا رکھے
ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر
جا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے
یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فرازؔ
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے
احمد فراز
تمام عُمر تجھے بھول کر سکون کے ساتھ
گزار سکتے ھیں لیکن نہیں گزاریں گے
*جب ترجیحات بدل جائیں تو دل تنگ ھو جاتے ھیں،
اور وھاں رھنے والوں کے دم گھنٹے لگتے ھیں،
لیکن مصلحتوں اور انا کی دیواریں اگر گرا دی جائیں تو
حبس کم ھو جاتا ھے ،اور ٹھنڈی ھوا جب غلط فہمیوں کا غبار کم کرتی ھے تو
راستے صاف نظر آنے لگتے ھیں .
بات حالات کی نہیں تھی۔۔۔
وہ تو بدل بھی سکتے تھے ۔
لہجہ دیکھا تھا اپنا۔۔۔۔؟؟
اس کے بعد بھی میرا رکنا بنتا تھا۔۔۔؟؟
ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہو گا یہاں ہم جیسا
کسی کم فہم کی یہ خام خیالی ____توبہ
✍️جب اپنا غم کسی سے بیان نہ کر سکو.. جب اپنی کیفیت کو خود ہی نہ سمجھ سکو.. جب کوشش کر کر کے تھک جاؤ.. ذہن کام کرنا چھوڑ دے.. آنسوؤں میں کمی نہ آئے.. تمام دن ایک سے گزرنے لگیں.. تو خود کو تھکانا چھوڑ دو.. سوچوں کے گرداب کو جھٹک دو.. اپنا آپ حالات کے حوالے کردو اُس ایک ذات کے بھروسے..
✍️وہ اتنا رحیم ہے کہ اُس پہ بھروسہ کرنے والے کو تنہا نہیں چھوڑتا.. اسے امید دیتا ہے, دلاسے دیتا ہے, اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے.. مشکل میں ڈالتا ہے تو خود ہی اس مشکل سے نکلنے کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے.. امتحان لیتا ہے تاکہ صابر بنو.. آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ شاکر رہو.. رُلاتا ہے تاکہ صاف دل رہو.. چپ بھی کرواتا ہے تاکہ یقین رکھو.. جگہ جگہ اپنے ہونے کی اپنے ساتھ کی یقین دہانی کراتا ہے
"نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ تجھ سے بیزار ہو گیا ہے"
سکون ملتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain