*مٹی بھی جمع کی کھلونے بھی بنا کر دیکھے*
*زندگی کبھی نہ مسکرائی پھر بچپن کی طرح.
کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال
کن ملالوں میں ہوں ، کیسا ہوں ، کہاں رہتا ہوں
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شمار جب بھی ہوگا میں ماں کو سرفہرست رکھوں گی اندھیری رات میں چمکتا ہوا ستارہ تپتے صحرا میں ٹھنڈی چھاؤں ہے میری ماں میری زندگی میری کل کائنات ہے میری ماں 😘💕 الحمداللہ الله پاک سب کے والدین کو سلامت رکھے اور انھیں ہر دکھ سے دور رکھے آمین 🤲🏻
اے الله ہمارے والدین پر رحم فرما جس طرح بچپن میں انھوں نے ہمیں شفقت سے پالا آمین
رات یُونہی ؛ کھنگال رہی تھی ماضی کو
فون میں تیری ! اُجلی اک، تصویر ملی
میرے دردِ سر کو ! تیری دید سے پھر
پیناڈول کی گولی سی !! تاثیر ملی
آئینہ صاف رہے ،ربط میں تشکیک نہ ہو____
اس لیے روز تجھے کہتے ہیں نزدیک نہ ہو_____
ہے اگر عشق تو پھر عشق لگے ، رحم نہیں_____
اتنی مقدار تو دے، وصل رہے ، بھیک نہ ہو______
نہیں تو وقت ہی سمجھائے گا تجھے اک دن
میں چاہتا ہوں مری بات کو دوبارہ سمجھ
تجھے ہم اور کسی کا نہ ہونے دیں گے کبھی
تو بھا گیا ہے ہمیں خود کو اب ہمارا سمجھ
میں تیری گفتگو نہ ہو جاؤں..!!
صورتِ ہوُ بَہوُ نہ ہو جاؤں...!!
ہو رہا ہے گماں مجھے..!!
میں کہیں میںِ سے تو نہ ہو جاؤں..!!
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ ﺍﮎ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﺮﺍ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ
ﺍُﺩﺍﺱ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ___ ﺗﺎﺯﮦ ﮔﻼﺏ ﮐﺮﺩﮮ گا
چُبھتے ہوۓ وہ لفظ۔۔۔۔وہ جلتے ہُوۓ حروف،
شہ رگ میں اب بھی ہیں وہ کانٹے اَڑے ہُوۓ،
*اِک بار سچ کہا تھا۔۔۔مگر اُس کی آگ سے،*
*اب تک مری زُباں پہ ہیں چھالے پڑے ہوۓ..*
چُبھتے ہوۓ وہ لفظ۔۔۔۔وہ جلتے ہُوۓ حروف،
شہ رگ میں اب بھی ہیں وہ کانٹے اَڑے ہُوۓ،
*اِک بار سچ کہا تھا۔۔۔مگر اُس کی آگ سے،*
*اب تک مری زُباں پہ ہیں چھالے پڑے ہوۓ..*
اُس سُنار کی قبر پر نور کی برسات ہو ،
جس نے صنفِ نازک پہ نتھلی ایجاد کی....
ہم سے پوچھو کہ محبت میں خسارا کیا ہے💔
جان لے کر بھی کوٸی پوچھے کہ ہارا کیا ہے🍁
ہاٸے اک عمر کٹی جن کی وفاداری میں💫
آج وہ پوچھتے ہیں ہم نے سنوارا کیا ہے🍂
زمانے سے الجھنا بھی اچھا نہیں مگر..
یہاں حد سے زیادہ بھی شرافت مار دیتی ھے
جو رشتہ زلت کا باعث بن جاۓ جو عزت کی جگہ ذلیل کرنے لگے ایسے رشتے کو جڑ سے کاٹ دینا چاہیے پھر چاۓ وہ بہت عزیز ہی کیوں نہ ھو۔ ایسے لوگوں سے کبھی بھی عزت کی توقع نہ رکھیں جو آپکی عزت غیروں میں ڈسکس کرے۔
جن میں شامل نہ ہو تری خوشبو۔۔۔
ایسے سب موسموں پہ دھُول پڑے۔۔۔
اس نے یونہی بس اک نظر دیکھا۔۔
اور ہم تھے کہ راہ بھول پڑے۔۔۔
محبت انسان سے جذباتی لگاؤ نہیں ہیں محبت تو دل سے پیدا ہونے والا طرز اخلاق ہے
ہارے ہیں تو کہتا ہے طرف دار ہمارا
بے کار میں ہم تیرے طرف دار ہوئے ہیں۔۔۔
ہم تجھ کو بھی اپنا ہی سمجھ لیتے تھے پہلے
اب آ کے کہیں تھوڑے سمجھدار ہوئے ہیں
تیرے وعدے کی حقیقت تو عیاں ھے لیکن
آہ ، وہ لوگ جو مجبورِ یقیں ھوتے ھیں
کیوں نہ اِک جھوٹی تسلی پہ قناعت کر لیں
لوگ کہتے ھیں عدم !! خواب حسیں ھوتے ھیں .
ضرورتاً نہیں جب دستیاب لوگوں کو
تو پھر دکھائے کیوں جاتے ہیں خواب لوگوں کو
مکاں کے زعم میں ہرگز نہ مبتلا رہئیے
اشارہ دیتے رہے ابر و آب لوگوں کو
تمام سلسلے موقوف ہو چکے تھے یہاں
میں کس بساط پہ دیتی جواب لوگوں کو
تمسخرانہ ہنسی گر نہ ہو تو پھر کہنا
دکھاؤ شوق سے دکھ کی کتاب ، لوگوں کو
خدایا سبز رتوں پر خزاں نہ آئے کبھی
سدا گلاب ہی رکھنا گلاب لوگوں کو
دکھائی ٹھیک تو دیتے ہیں پر نہیں ہوتے
خدا خراب کرے ان خراب لوگوں کو
کومل جوئیہ ۔۔۔۔۔🌸
ہم پہ گزرے ہیں موسم فقط سزاؤں والے
ہم نے دیکھے ہی نہیں ، لوگ وفاؤں والے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain