خاک_ سے_ بنے _ہیں _صاحب...☝
غرور _جچتا _نہیں _ہم _ پر..
👇سنا تھا کہ
👈دکھ کا احساس اپنوں کو ھوتا ہے
اچـــھا
تو یہ بتاؤ👇
👈اگر دکھ ھی اپنے دیں تو احساس کون کرتا ہے🤔🤔🤔🤔
✍️حوری رائٹس
Apnaلہجہnarmرکھاkarein
☕صــــاحــــب☕
Garmتوmeinصرفchaeyپیتیhoon
✍️حوری
خوشیوں میں #؛؛مٹھائیاں مانگنے والے#
دکھوں میں نظر #نہیں آتے
فالتو کو جہاں سمجھتے ہیں
ہم جہاں کو کہاں سمجھتے ہیں
جب تلک راکھ ہو نہیں جاتے
آگ کو بھی دھواں سمجھتے ہیں
کام پڑتا ہے جب زمیں سے ہمیں
ہم اسے آسماں سمجھتے ہیں
دوڑ میں زندگی کی لوگوں کو
لوگ، بیساکھیاں سمجھتے ہیں
بے وفا ہر کسی کو کیا کہنا
خود کو چل بدگماں سمجھتے ہیں
ایک ہی جھوٹ تجھ سے بولا تھا
تیری مجبوریاں سمجھتے ہیں
آپ کی چپ سے ہم کو لگتا ہے
آپ چپ کی زباں سمجھتے ہیں
زندگی کی گھٹن میں یادوں کو
ہم کھلی کھڑکیاں سمجھتے ہیں
زندگی کھیل ہے تخیل کا
آئنے پر کہاں سمجھتے ہیں
آپ اپنی مثال ہیں ابرک
دشمنِ جاں کو جاں سمجھتے ہیں
اس دنیا نے میری وفا کا..!
کتنا اونچا مول دیا..!!
پیروں میں زنجیریں ڈالیں..!
ہاتھوں میں کشکول دیا..!!
جب بھی کوئی انعام ملا ہے..!
میرا نام بھی بھول گئے..!!
جب بھی کوئی الزام لگا ہے..!!
مجھ پر لا کر ڈول دیا..!!
ہاتھ کے چھالے پاؤں کے کانٹے..!
آنکھ کے آنسو دل کا درد..!!
تو نے مجھے پیار میں جو بھی.!
تفحہ دیا انمول دیا..!!
اب غم آئیں خوشیاں آئیں...!!
موت آئے یا تو آئے..!!
میں نے تو بس آہٹ پائی اور...!!
دروازہ کھول دیا..!!
یہ معصومیت کا کونسا انداز ھے
فـــراز
پر کاٹ کر کہنے لگے اب آزاد ہو تم
وہ کتابوں میں درج تھا ہی نہیں
🖤🖤🖤
جوسبق سکھایا زمانے نے
⌚⌚⌚⌚
💯💯💯
میں خود اپنا عکس ہوں ۔۔۔
میں اپنی ذات میں لاجواب ہوں ۔✋😶
دسمبر اب کے جاؤ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا____~``
مجھے بھی شام ہونا ہے ، مجھے گمنام ہونا ہے____~``
اپنے ہونٹوں پہ دسمبر کی شکایت لے کر.
خشک پتے میرے پاؤں سے لپٹ جاتے ہیں.
#byedecember
چائے، شاعری، نغمے، لطیفے، رت جگے
اپنے حصے میں یہی دیسی دوائیں رہ گئیں
چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلیٹ گھولی
سہمے سہمے ہاتھوں نے اک کتاب پھر کھولی
سوکھے پتّوں میں بھی آنے لگی مُشکِ عَنبر
تیری بکھری ھوئی یادیں اور یہ زرد دسمبر
میں ایک بوری میں لائی ہوں بھر کے مونگ پھلی
کسی کے ساتھ دسمبر کی رات کاٹنی ہے
اے دسمبر ! تیری یخ بستگی میں بھی
طلب کِسی کی کیوں منجمد نہیں ہوتی
تم عشق کرو اور درد نہ ہو...
مطلب دسمبر ہو اور سرد نہ ہو...
دل کو بہلانے کے لئے کچھ تو چاہیے
چاہ نہ سہی, تو چائے ہی سہی
#
دسمبر اب کے جانا تو
دلوں کےمیل
حسد کی آگ
بری نظریں
گھٹن اور بدگمانی سب
تم اپنے ساتھ لے جانا
جہاں تم ڈوبتے ہونا
وہیں ان کو بھی
دفنا دینا
تم تحفے توبھیجوگے؟
جنوری کے ہاتھوں نا؟
محبت بےتحاشا سی
خلوص و گرم جوشی بھی
بےغرض ناطے
گہرےتعلق اور
نرم سےدل
جو سب کےلیےدھڑکتےہوں
بھجوا دینا
ان جاگتی راتوں کو یہ کہتا ہے دسمبر
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ہے تعبیر دسمبر
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain