جب کبھی عارضی مسکان کی زد سے نکل کر ، مغموم راہوں کا راہی بن کر ، دائمی آزردگی کی آغوش میں پناہ لو گی اور کوئی دلاسہ دینے والا آس پاس نہ پاؤ گی تب بے چینی کے بھنور میں اپنی صورتِ ملول کو لیکر پھولوں سے مُستعار میرے دُلار ، اور اپنی ہنسی کے ضمن میں اوٹ پٹانگ حرکتوں کے وسط میں چھپی میری محبت سمیت آئینے میں ... اپنے ماتھے کی جھریوں پر تمہیں میرا بوسہ نظر آئے گا 🍂
وہ پھولوں جیسی لڑکی کانٹوں جیسے گھر میں رہتی ہے سنا تھا کہ خوش مزاج ہے بہت یوں ہی مسکراتی رہتی ہے لیکن میں نے دیکھا ہے اسے اکثر ہی خاموش رہتی ہے ہو گی کبھی وہ ایسی ہی ، جیسی تم بتاتے ہو اب تو ایسی ہے جیسے چپکے سے کوئی دکھ سہتی ہے نہ کوئی دوست نہ کوئی ہمدم ہے اس کا نا جانے دل کی باتیں کس سے کہتی ہے 😑