عرصہ ہوا کسی نے پکارا نہیں مجھے
شاید کسی کو میری ضرورت نہیں رہی
🍁
غم کے دریا سے نکالے کوئی
مجھے جینا ہے بچا لے کوئی
🍁
سلیقہ، سادگی سب آزما کر یہ سمجھ آیا
بہت نقصان ہوتا ہے ادب سے پیش آنے میں
🍁
سبھی ہیں اپنے مگر اجنبی سے لگتے ہیں
یہ زندگی ہے کہ ہوٹل میں شب گزاری ہے
🍁
ذہن میں سوچوں کا ہجوم ہے اور
کہنے کو زبان پر اک لفظ بھی نہیں
🍁
بدل دیا خود کو اتنا
لوگ ترسے گے پہلے سا دیکھنے کو
🍁
زندگی مجھ سے کہتی ہے ہر دم اداس مت رہا کر
میں کہتی ہوں مجھے اک وجہ تو دے ہنسنے کے لیے
🍁
رابطے راستے واسطے کچھ نہیں پہلے جیسا
بس دل اداس ہے اور بہت اداس ہے
🍁
وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں
وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا
🍁
وقت نے چھین لی چہرے کی چمک غالب
ہم ویسے نہیں رہے جیسے ہوا کرتے تھے
🍁
کیا تلخ حقیقت ہے، مگر بات ہے سچ
ہم جیتے ہیں مگر زندگی مر چکی ہے
🍁
یادیں بھی بکھر جاتی ہیں، جب موسم بدلتے ہیں۔
🍁
کسی کا عشق، کسی کا خیال تھے، ہم بھی
گئــے دنوں میں، بہت با کمال تھے، ہم بھی
🍁
محبتیں پناہ مانگتی ہیں ۔
لوگ اس قدر بے وفا ہیں آج کل ۔
🍁
معیار ہونا چاہیے انسان میں
غرور تو دو ٹکے کے لوگ بھی کرتے ہیں
🍁
اعتبار کیجئے تو صرف اندھوں کا
جنہوں نے رنگ برنگی دنیا نہیں دیکھی
🍁
کون زندہ ہے مرچکا ہے کون
یہ سانس چلنے سے طے نہیں ہوگا
🍁
میں کاغذ کی ایک کشتی ہوں
پہلی بارش ہی آخری ہے مجھ پر
🍁
روح کی اداسی نہیں جاتی
میں ہنس ہنس کے تھک جاتی ہوں
🍁
بے شمار زخموں کی مثال ہوں میں
پھر بھی ہنس لیتا ہوں کمال ہوں میں
🍁
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain