بہار رُت میں اجاڑ راستے تکا کرو گے تو رو پڑو گے کسی سے ملنے کو جب بھی محسن سجا کرو گے تو رو پڑو گے تمھارے وعدوں نے یار مجھ کو تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے کے زندگی میں جو پھر کسی سے دغا کرو گے تو رو پڑو گے میں جانتا ہوں میری محبت اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسی کے چاند راتوں میں اب کسی سے ملا کرو گے تو رو پڑو گے برستی بارش میں یاد رکھنا تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں کسی ولی کے مزار پر جب دعا کرو گے تو رو پڑو گے
نئی رتوں میں ، دُکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے وہ زخم تازہ ہوئے ہیں ، جو بھرنے والے تھے یہ کس مقام پہ سُوجھی ، تجھے بچھڑنے کی کہ اب تو جا کے کہیں دن ، سنورنے والے تھے جمال احسانی❤️