,,ایک عجیب سی کیفیت ہے اس کے بغیر
رہ بھی رہے ہیں اور رہا بھی نہیں جا رہا
سمجھ نـے والا ہـی میــرا مـرتـبـہ سـمجھتـا ہـے
ســو فــرق نہیـں پـڑتـا،کـون کـیـا سـمجھتـا ہـے
___چاہتوں کا مان کون رکھتا ہے
ضرورتوں کے مارے ہیں لوگ____
آشنا سے چہروں کے، اجنبی رویوں کو
سہہ کر مسکرا دینا، آفرین اذیت ہے
اب کون خود پرست ستائے گا آپ کو؟
کس بے وفا کے ناز اُٹھایا کریں گی آپ
"- ہم تو تیرے بغیر جینے کی،،
پہلی کوشش میں ہی مارے جائیں گے۔
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﻗﺼّﮯ ، ﺳﻤﯿﭩﻮﮔﮯ ﺗﻮ ﻟﮑﮭﻮﮔﮯ
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﭼﻮ ﮔﮯ ، ﮨﻤﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﺗﮏ
یہ خالی جیبیں، فقیر حلیہ، اداس آنکھیں
ہمیں کوئی جو گلے لگائے تو کیوں لگائے_
کون جانتا ھے۔۔۔دل کی آنچ پر ھم نے
آنسوئوں کو پگھلا کر۔۔۔قہقہ بنا ڈالا
حضرتِ عشق ___تیری معصومیت کی قدر ہے ورنہ !
دل تو کرتا ہے تجھے گلیوں میں گھسیٹا جائے !
ﺳﻨﻮ ﮨﻢ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺗﻨﮩﺎ ﮐﺴﯽ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮔﻮﺷﮯ ﻣﯿﮟ
ﮨﻮﺍ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮨﻢ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
ھم بنے تھے تباہ ھونے کو
تیرا ملنا تو اک بہانہ تھا,,
جون ایلیا ء