میں ابھی گردش ایام کی آغوش میں ھوں,,, ہاتھ باندھےھوئےاک عالم_خاموش میں ھوں,,, جانےکیاسوچ کےیاروں نےمجھے دفن کیا,,میں توچلاتارها،ھوش میں ھوں،ھوش میں ھوں,,
"آگ لگے ان "آنکھوں" کو,,, اور بھاڑ میں جائیں "خواب" سبھی",,
لوٹ بھی آئیں تو پہلے سے کہاں رہتے ہیں,,,, میں نے بچھڑے ہوئے لوگوں پہ بہت سوچا ہے
سنائے گا مجھے دو چار باتیں۔۔۔ پھر میرے سینے سے آن لگے گا۔۔
کوشش تو کرو نا ۔۔۔صاحب۔۔۔۔ تھوڑا سا ہمیں یاد کرنے کی۔۔۔
کیا تیرے ہاتھ بھی چاہت میں یہی کچھ آیا پھول سوکھے ہوئے ،، تحریر پٌرانی کوئی
تو بھی سادہ ہے , چال بدلتا ہی نہیں ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آجاتے ہیں
وہ روٹھا ہی رہے گا اسے خبر ہی نہیں ہوگی مجھے کب ، کہاں ، اور کس لمحے دفنایا جائے گا
اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بھول گیا
میں نقشِ پا ھوں تیرے ساتھ چل نہیں سکتا یہ بے بسی تُجھے اِنکار لگ رہی ھے کیا۔؟
اتنی تاخیر نا کیجئے پلٹنے میں کہ چابیاں بے اثر ہوجائے تالوں پر