*یہ تو نصیب کی بات ہے*
*کس کی شادی کہاں ہوگی*
*کون کس کے نکاح میں ہو گا*
*محبت ہو جاتی ہے یہ فطری عمل ہے*
*ہم سب کسی نہ کسی کے ساتھ*
*محبت کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں*
*اس کا یہ مطلب یہ نہیں کہ نصیب بھی*
*اُس کے ساتھ ہو نصیب کے کھیل کبھی*
*الٹے بھی ہو جایا کرتے ہیں جس کو*
*جس سے محبت ہوتی ہے وہ کسی*
*اور کے نصیب سے منسلک*
*ہو جاتا ہے دعا ہے جس کا*
*جہاں دل لگا ہے رب اُسے*
*اُسکے نصیب میں لکھ دے*
از قلم وفا نور آفریدی
*ایک عورت شرٹ کے ٹوٹے بٹن سے لے کر*
*مرد کے ٹوٹے دل تک کو جوڑنے کا ہنر رکھتی ہے*
از قلم وفا نور آفریدی
*اگر انسان میں اتنی قابلیت ہے*
*کہ وہ بےجان پتھروں کو جوڑ*
*کے اتنے خوبصورت شاہکار بنا*
*سکتا ہے تو نرم ونازک*
*احساسات رکھنے والے ٹوٹے*
*دلوں کو جوڑ کے پتھر ہونے*
*سے کیوں نہیں بچا سکتا*
*از قلم وفا نور آفریدی *
🤦اصلیحت راتہ معلوم شو دا یارانو 😭
🙏 درتہ سوال کڑم لویہ خدایہ چے مختاج می ورتہ نہ کڑے 😰 آمین
از قلم وفا نور آفریدی
بس کہ کنہ جوندہ مانہ سہ غواڑی🌹💐
ماخو درتہ ٹول حساب دار کڑی دے📚 ۔
از قلم وفا نور آفریدی
باران د کاڼو ئې پۀ کور اوشه
څوک چې پۀ يار مطلب کوي بيا ئې پريدينه
از قلم وفا نور آفریدی
تیرے بدلے ہوئے لہجے سے کہیں بہتر ہے
ہم جدائی کی اذیت ہی گوارا کر لیں۔
کچھ خدا ایسا کرے تجھ کو محبت ہو جائے
تُو پکارے ہمیں ہم تجھ سے کنارا کر لیں....ッ🎀
____از قلم وفا نور آفریدی_____★᭄
کشش پیدا کر کردار میں🔥
زمانہ تیری آہٹ کے پیچھے آئے گا..🦅
💞💞
از قلم وفا نور آفریدی
فصل رنگ بدلے تو کاٹ لو
لوگ رنگ بدلیں تو چھوڑ دو
از قلم وفا نور آفریدی
تعلیم بڑھ رہی ہے ادب کھٹ رہے ہیں
مطلب معلوم نہیں الفاظ رٹ رہے ہیں
از قلم وفا نور آفریدی
ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا
کتنی ہے دلخراش رسم جہیز بھی
💔💔💔
از قلم وفا نور آفریدی
انسان کو مارتی ہمیشہ محبتیں ہیں
نفرتیں تو جینا سکھاتی ہیں 🙂💔👑
از قلم وفا نور آفریدی
ہر کسی سے محبت کا تقاضا نا کیا کر
اگر کرتا ہے محبت تو دیکھاوا نا کیا کر
تو رکھ پابند اپنی نگاہوں کو کسی ایک پر
ہر شخص سے محبت کا ارادہ نا کیا کر
💔🖤
از قلم وفا نور آفریدی
اٹھ نہ جائے اعتبار زمانے کا
اے محبت کسی کو تو راس آجا
از قلم وفا نور آفریدی
ہم جو تم سے ملے ہیں اتفاق تھوڑی ہے
مل کے تم کو چھوڑ دیں مذاق تھوڑی ہے
اگر ہوتی تم سے محبت ایک حد تک تو چھوڑ دیتے
پر ہماری تم سے محبت کا حساب تھوڑی ہے
اب تم ڈھونڈوگے میری اس غزل کا جواب
یہ میرے دل کی آواز ہے کتاب تھوڑی ہے
♥️ ڈھونڈ لو جواب
از قلم وفا نور آفریدی
تقدیر سے لاچار ہوں میں اے ذوق تمناء
ہر فن میں ہوں ماہر بس محبت نہیں آتی
از قلم وفا نور آفریدی
وفا کا درس لینا ہے تو پھول سے لے
جو پودے سے جدا ہوتے ہی مرجھا جاتے ہیں
از قلم وفا نور آفریدی
فارغ وقت کی بے قراری محبت نہیں ہوتی
محبت تو لاکھوں کے ہجوم میں بھی بے قرار کرتی ہے
از قلم وفا نور آفریدی
کتاب سے سیکھو تو نیند آتی ہے اور زندگی سے سیکھو تو نیند اڑ جاتی ہے
از قلم وفا نور آفریدی
ہمارے معاشرے میں صلح کی بیٹھک کا مقصد
کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر راضی کرنا ہے
از قلم وفا نور آفریدی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain