بعض اوقات آپ کسی شخص سے محبت کرنا نہیں چھوڑتے۔۔
لیکن آپ اس سے فاصلہ ضرور اختیار کر لیتے ہیں تاکہ اپنے دل اور اپنے جذبات کی ناقدری ہونے سے بچا سکیں۔۔۔۔!!
🥀
از قلم وفا نور آفریدی
مجھے ان لوگوں سے کوئی مسئلہ نہیں جو مجھے پسند نہیں کرتے
مجھے مسئلہ ان سے ہے جو مجھے پسند کرنے کا دیکھاوا کرتے ہیں
از قلم وفا نور آفریدی
کردار اچھا ہو تو لوگ قبر کا راستہ بھی پوچھ کہ پہنچ جاتے ہیں
از قلم وفا نور آفریدی
اگر کسی عورت سے وفا چاہتے ہو تو اسے وقت دو محبت دو بھروسہ دو اور سب سے زیادہ اگر عزت دو گے تو وہ عورت تمہارے لیے اپنی جان تو دے دے گی مگر کبھی بے وفائی نہیں کرے گی
از قلم وفا نور آفریدی
عورت توجہ مانگتی ہے
اور مرد ذہنی سکون
جہاں بھی ان دونوں کو یہ دو چیزیں ملیں گی یہ دونوں وہیں کے ہو کر رہ جائیں گے
از قلم وفا نور آفریدی
ایک بیوی گھر میں اپنے شوہر کو علیحدگی پر مجبور کرتی ہے
مگر وہی عورت والدین کے گھر جا کر بھائیوں کو اکٹھا رہنے کی تلقین کرتی ہے
❤️ مجھے جوائن فیملی پسند
از قلم وفا نور آفریدی
احترام کرنا تربیت ہوتی ہے کمزوری نہیں
اور معذرت کرنا حسنِ اخلاق ہوتا ہے زلت نہیں
از قلم وفا نور آفریدی
انسان کی خوبصورتی کا تعلق
اس کے ظاہر سے نہیں
بلکہ باطن سے ہے
ہر وہ شخص خوبصورت ہے
جو ایک خوبصورت اور با اخلاق دل کا مالک ہے🙂❤️
از قلم وفا نور آفریدی
#کردار_اچھا__رکھو••💯✌️
#معیار__خود_بن_جاتا_ہے. 💯
از قلم وفا نور آفریدی
سب کچھ عارضی ہے🥀🔗
جذبات، خیالات، منظر، لوگ اور دنیا 🙂🔥
از قلم وفا نور آفریدی
*کبھی کبھی ... یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے ... کہ غلط کیا ہے ...؟ وہ جھوٹ ... جو چہرے پر مسکان لائے ... یا وہ سچ ... جو آنکھوں میــــں آنسو لائے ...؟ خود کو ... جھوٹ میــــں بہلا کے خوشـــــــــں رہیں ... یا حقیقتــــــــ کو تسلیم کر کے روئیں .........!!!*
💞 💞
از قلم وفا نور آفریدی
پرہیز کیجیے___________مجھ سے😒
خود کے سوا_____کسی سے محبت نہیں
از قلم وفا نور آفریدی
خود کو اتنا مضبوط کیجیے کہ بدلتے ہوئے موسم
اور بدلتے ہوئے لوگ آپ پر اپنا اثر نہ چھوڑ سکیں
از قلم وفا نور آفریدی
یہ تلاش کرنے سے کبهی نہ گبهراو کہ تم کیا ہو
کیونکہ جو شخص تمہیں متاثر کر سکتا ہے وہ تم خود ہو
از قلم وفا نور آفریدی
کچھ دن بہت خوش رہی تھی میں
اب اس خوشی کا قرض اتار رہی ہوں
از قلم وفا نور آفریدی
کوئی تعبیر نہیں تھی جس کی
ہم نے وہ خواب مسلسل دیکھا
از قلم وفا نور آفریدی
کتابوں جیسے لوگ ہیں ہم
گہرے خاموش اور الفاظ سے بھرپور
از قلم وفا نور آفریدی
یہ دل بہت اداس ہے جب سے ہوئی خبر
ملتے ہیں وہ ہر ایک سے خلوص کے ساتھ
از قلم وفا نور آفریدی
اپنے مطلب کے علاوہ کون کسی کو پوچھتا ہے
شجر جب سوکھ جائیں تو پرندے بھی بسیرا نہیں کرتے
از قلم وفا نور آفریدی
آج اس نے ایک اور درد دیا تو ہمیں یاد آیا
ہم نے بھی تو دعاوں میں اس کے سارے درد مانگے تھے
از قلم وفا نور آفریدی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain