تُو چاہتا ہے کسی اور کو پتا نہ لگے
میں تیرے ساتھ پھروں اور مجھے ہوا نہ لگے
تمہارے تک میں بہت دل دکھا کے پہنچی ہوں
دعا کرو کہ مجھے کوئی بددعا نہ لگے
تجھے تو چاہیے ہے، اور ایسا چاہیے ہے
جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے
میں تیرے بعد کوئی تیرے جیسا ڈھونڈتی ہوں
جو بے وفائی کرے، اور بے وفا نہ لگے
میں اس لیے بھی اداسی میں ہنسنے لگتی ہوں
کہ مجھ میں اور کسی شخص کی فضا نہ لگے
ہزار عشق کرو، لیکن اتنا دھیان رہے
کہ تم کو پہلی محبت کی بددعا نہ لگے
از قلم وفا نور آفریدی
اکیلے_چھوڑ_جاتے_ہو ___ یہ_تم_اچھا_نہیں_کرتے🔥
ہمارا دل دکھاتے ہو . ___ یہ تم اچھا نہیں کرتے😔
کہا بھی تھا محبت ہے ___ محبت ہی اسے رکھوں🔥
تماشہ جو بناتے ہو ___ یہ تم اچھا نہیں کرتے😔
اٹھاتے ہو سرِ محفل ___ فلک تک تم ہمیں لیکن🔥
اٹھا کر جو گراتے ہو ___ یہ تم اچھا نہیں کرتے😔
کوئ جو پوچھ لے تم سے کہ رشتہ کیا ہے اب ہم سے🔥
تو نظروں_کو_جھکاتے_ہو ___ یہ تم اچھا نہیں کرتے😔
بکھر جاہیں اندھیروں_میں ____ سہارا تم ہی دیتے ہو🔥
مگر پھر چھوڑ جاتے ہو __ _یہ_تم_اچھا_نہیں_کرتے😔
از قلم وفا نور آفریدی
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقات زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے
ناصر کاظمی
*_مجھے اچھا سا لگتا ہے💕_*
*_تمہارے سنگ سنگ چلنا💕_*
*_وفا کی آگ میں جلنا💕_*
*_تمہیں ناراض کر دینا💕_*
*_تمہیں خود ہی منا لینا💕_*
*_تمہاری بے رخی پر بھی💕_*
*_تمہارے ناز اٹھا لینا💕_*
*_بہت گہرے خیالوں میں💕_*
*_جوابوں میں، سوالوں میں💕_*
*_محبت کے حوالوں میں💕_*
*_تمہارا نام آجانا💕_*
*_مجھے اچھا سا لگتا ہے💕_*
*_تمہاری آرزو کرنا💕_*
*_خود اپنے دل کی دھڑکن سے💕_*
*_تماری گفتگو کرنا💕_*
*_بہت اچھا سا لگتا سے💕_*
*_تمہی کو دیکھتے رہنا💕_*
*_تمہی کو سوچتے رہنا💕_*
*_مجھے اچھا سا لگتا ہے💕_*
از قلم وفا نور آفریدی
کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے
غمِ دنیا سے گھبرا کر تمہیں دل نے پکارا ہے
تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستورِ وفا کیا ہے
نجانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئی ہم سے
تمہیں دیکھا، تمہیں چاہا، قصور اس کے سوا کیا ہے
نہ ہے فریاد ہونٹوں پر، نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں ڈھالا ہے
از قلم وفا نور آفریدی
کوئی ایسا پل بھی ہوا کرے.
میں کہوں تو بس وہ سُنا کرے.
میری فرصتیں میرے مشغلے.
سبھی اپنے نام کیا کرے.
کوئی بات ہو کسی شام کی.
کوئی ذکر ہو کسی رات کی.
جو سنانے بیٹھوں اسے کبھی.
وہ سنے تو سن کے ہنسا کرے.
جو میں کہوں چلو اس نگر.
جہاں جگنوؤں کا ہجوم ہو.
وہ پلٹ کے دیکھے میری طرف.
اور مجھ کو پاگل کہا کرے .
*🤏🏻💔از قلم وفا نور آفریدی 🥺*
تعلق جوڑ لیتا ہے، نبھانا بھول جاتا ہے
نیا رشتہ بناتا ہے،،،، پرانا بھول جاتا ہے
محبت کی زمیں میں وہ دکھوں کے بیج بوتا ہے
اترتی ہے جو فصلِ غم،،،،،، اٹھانا بھول جاتا ہے
میری تنہائی کا اس کو بہت احساس رہتا ہے
خیالوں میں جو آتا ہے، تو جانا بھول جاتا ہے
میرے زخموں کا مرہم لے کے جب بھی پاس آتا ہے
بناتا ہے، دکھاتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، لگانا بھول جاتا ہے
میرے ہی خون سے میرے چتر میں رنگ بھرتا ہے
مگر آنکھوں میں سپنوں کو سجانا، بھول جاتا ہے
بڑے ہی شوق سے گاتا ہے وہ یہ درد کے نغمے
مگرسازِ محبت کو اٹھانا،،،،،،،،،، بھول جاتا ہے
از قلم وفا نور آفریدی
💞دل کے لُٹ جانے کا اظہـــــــار
ضـــــــــــــــــــروری تو نہیں.....💞
💞یہ تماشہ سرِ بازار
ضروری تو نہیں.....💞
💞مجھے تھا عشق تیری روح سے
اور اب بھی ہے.....💞
💞جسم سے ہو کوئی سروکار
یہ ضروری تو نہیں.....💞
💞میں تُجھے ٹوٹ کر چاہوں تو
میری فطرت ہے.....💞
💞تو بھی ہو میرا طلبــــــــــــگار یہ ضروری تو نہیں.....💞
💞اے ستم گر ذرا جھانک
میری آنکھوں میں.....💞
❤️زباں سے ہو پیار کا اظہار
یہ ضروری تو نہیں.....❤️
❤️تم جان نہ سکے میں بول نہ سکی❤️
💔🥀از قلم وفا نور آفریدی 🥀💔
وہ پانی کی لہروں پہ کیا لکھ رہا تھا
خُدا جانے حرفِ دعـــا لکھ رہـــا تھا
لکھا تھا جس نے ناول وفا کا ادھورا
وہی شخص پیار کی انتہا لکھ رہا تھا
بھلا کـــرتے کـــرتے گُـــزری جوانی
مگر پھر بھی خود کو بُرا لکھ رہا تھا
مُحبت میں نفـرت ملی تھی اُسے بھی
جو ہر شخص کو بے وفا لکھ رہا تھا
ذرا اُس کی آنکھوں سے آنسو نہ نکلے
وہ جس وقت حرفِ ســــزا لکھ رہا تھا
نمــــــازِ محبـت میــں وفا وہ اپنــے
ھوئے تھے جو سجدے قضا لکھ رہا تھا
از قلم وفا نور آفریدی
💔💔💔
والد کی وراثت عذاب ہوتی ہیں
از قلم وفا نور آفریدی
حضور آپ کی خواہش پہ گفتگو ہوگی
مگر ہے شرط کہ ہوگی تو روبرو ہوگی
بصد خلوص میں خود کوبھی وار دوں تم پر
اگر تمہیں بھی فقط میری آرزو ہوگی۔🎀🥀
از قلم وفا نور آفریدی
چاہتیں ، وقت ، وفا ، نیند ، بھروسہ ، غزلیں
ایسا کیا تھا جو ترے سر سے نہ وارا ہم نے
ایک خامی بھی تمھاری نہ بتائی کسی کو
دور رہ کے بھی بھرم رکھا تمھارا ہم نے🥀
از قلم وفا نور آفریدی
کچھ ذات کے ٹکڑے باقی ھیں
کچھ حرف ھیں ٹوٹے بکھرے سے
اک دل کا حصہ خالی سا۔۔۔!
اک آنکھ کا شور وہ پانی سا
کچھ نقش ھیں تیرے مجھ میں ابھی
یہ کس نے کہا ھم بچھڑے ھیں ؟
از قلم وفا نور آفریدی
ہاں تم پہ ناز کرتی ہیں وعدہ خلافیاں 🍁
ہاں میرے انتظار کے لائق نہیں ہو تم۔۔!🖤
از قلم وفا نور آفریدی
بھروسہ رکھو ہماری دوستی پر
ہم کسی کا دل دکھایا نہیں کرتے
آپ اور آپ کا انداز ہمیں اچّھا لگا
ورنہ ہم ہرکسی کو دوست بنایا نہیں کرتے
از قلم وفا نور آفریدی
اور پھر.....
آدھے سے زیادہ دکھ اس وجہ سے برداشت کر لئے جاتے ہیں کہ کہیں ماں باپ پریشان نہ ہوں..
از قلم وفا نور آفریدی
میں اگر پہلا تماشہ تھا تماشہ گاہ میں تو....
مشغلہ اس کا میری ذات سے پہلے کیا تھا.....😊😊😊😊
از قلم وفا نور آفریدی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain