کبھی کبھار چھوڑ دینا ہی زیادہ بہتر ہوتا ہے
کیونکہ لہجے دل نہیں انسان کو کھا جاتا ہے
از قلم وفا نور آفریدی
شور اور شعور
کے درمیان ایک ع کا فرق ہے
اور پتہ ہے یہ ع کیا ہے
ع علم ہے
از قلم وفا نور آفریدی
کبھی تو ختم ہوں گی یہ اداسیاں یہ تنہائیاں
اک دن تو اچھا ہو گا چار دن کی زندگی میں
از قلم وفا نور آفریدی
✍🏻اگر آپ کا کوئی مخالف نہیں،
اگر آپ کی کوئی اپوزیشن نہیں،
اور اگر آپ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں،
تو یہ آپ کے لیے:
اطمینان کی نہیں، فکرمندی کی بات ہونی چاہیے۔
کیونکہ:
اگر آپ کی کوئی پوزیشن ہے تو آپ کی اپوزیشن بھی ضرور ہوگی۔
کہا جاتا ہے کہ:
کسی انسان کا اگر کوئی مخالف نہیں تو سمجھ لو کہ اس کے اندر کوئی خوبی ہی نہیں!
یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ:
افراد کے درست اور نادرست ہونے کا پیمانہ مخالفین یا موافقین کی تعداد کو بنایا جائے۔
وقت کے نبی کے بھی مخالفین اور دشمن رہے،
اور وقت کے ولی کے بھی مخالفین اور دشمن رہے،
مخالفت اور دشمنی سے محفوظ صرف دو ہی طرح کے افراد رہتے ہیں:
ایک، منافق
اور دوسرا، بے کار و بے مصرف۔
📚📚📚 از قلم وفا نور آفریدی
☜ ما ضـــــــی خراب ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو مایوس نہ ہوں
آپ کے پاس سنوارنے کے لیے ابھی حال اور مستقبل ہـــــــے ۔۔۔
اللّٰہ سے معافی مانگو سچی توبہ کرو۔۔
ماضـــــــی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں
اور ان غلطیوں کو حال اور مستقبل میں نہ دہرائیں۔
از قلم وفا نور آفریدی
•┈•❀•🍃🌼•🌼•🌼🍃•❀•┈•
#اوَّلِیات
*سب سے پہلے امیر المومنین کا لقب سیدنا عبد اللہ بن جحش کو دیا گیا* (رضى الله عنه)
*سب سے پہلے اسلام کا جھنڈا بھی عبد اللہ بن جحش نے اٹھایا*
`سب سے پہلے غنیمت کا مال بھی آپ نے ہی جمع کیا تھا`
*عبد اللہ بن جحش سیدہ ام المومنین زینب بنت جحش کے بھائی ہیں*
`یہ سابقین اولین میں سے بدری صحابی ہیں`
(المنتخب فی النوب للجوزی, احکام القرآن للقرطبی,سیرت حلبیہ)
اللہ رب العزت بدری صحابہ کرام کا صدقہ ہمیں باعمل بنائے
✍️از قلم وفا نور آفریدی
" زندگی کے بہترین دور کے بارے میں لوگوں
سے پوچھیں تو جواب ملے گا کہ اچھا زمانہ گزر
چکا ہے یا ابھی آیا ہی نہیں، حالانکہ اچھا دور وہ
ہے جو آج گزر رہا ہے “
از قلم وفا نور آفریدی
*’’یاد دہانی اور بھول‘‘*
✿۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾
’’جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں۔‘‘ [الكهف: ٢٤]
⇚ شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ (١٣٩٣هـ) فرماتے ہیں:
إِذَا وَقَعَ مِنْكَ النِّسْيَانُ لِشَيْءٍ فَاذْكُرِ اللَّهَ; لِأَنَّ النِّسْيَانَ مِنَ الشَّيْطَانِ.
’’اگر آپ کو کوئی چیز بھول جائے تو اللہ تعالی کا ذکر کریں، کیونکہ بھول شیطان کی طرف سے ہوتی ہے جیسا کہ موسی علیہ السلام کے غلام کے قول کے بارے فرمایا ﴿وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ ’’آپ سے اس کا ذکر کرنے سے شیطان نے ہی مجھے بھلایا تھا۔‘‘ [الكهف: ٦٣]‘‘
📖 [أضواء البيان - ط الفكر ٣/٢٥٤]
از قلم وفا نور آفریدی
*عورت میں حیا ایسی ہونی چاہیے کہ*
*وہ کسی شخص کے دل میں غلط خیال پیدا نہ ہونے دے*
*اور یہ حیا صرف حجاب سے حاصل نہیں ہوتی*
*بلکہ یہ آپ کی زبان،*
*آنکھیں، دل اور Body* *language سے بھی جھلکنی چاہیے*
*یعنی آپ کا ہر انداز فتنے سے دور کرنے والا ہو۔*
از قلم وفا نور آفریدی
*✍🏻تعریف چہرے کی نہیں کردار کی ہونی چاہیئے کیونکہ چہرہ اچھا بنانے میں چند منٹ اور کردار اچھا بنانے میں پوری زندگی لگتی ہے۔*🩷
🩷 *صبح بخیر زندگی*🩷
از قلم وفا نور آفریدی
ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گے
بہاریں ہم کو ڈھونڈھیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گے
از قلم وفا نور آفریدی
*اگر انسان کو تکبر کے بارے میں اللہ کی ناراضگی کا علم ہو جائے تو بندہ صرف*
*فقیروں اور غریبوں سے ملے اور مٹی پر بیٹھا رہے 💯*
از قلم وفا نور آفریدی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی*
*ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانےفرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے ۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس ( فرشتے ) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا
فطری اصول سے نظر نہ چرائیں
*دنیا میں مشہور ہونے کے لیئے پہلے گم ہونا پڑتا ہے
`اپنے پیچھے چلانے کے لیئے پہلے کسی کے پچھے چلنا پڑتا ہے`
نام کمانے سے پہلے بے نام ہونا پڑتا ہے
استاد ہونے سے پہلے شاگرد ہونا پڑتا ہے
*حاصل کرنے سے پہلے کھونا پڑتا ہے*
الغرض نظامِ حیات و فطری نظام ہے کہ پہلے کچھ دو پھر کچھ ملے گا
`آپ کسی انسان سے خواہ کتنا ہی قریبی ہو بغیر کچھ دیئے اس سے نہ عزت لے سکتے ہیں نہ محبت نہ مال لے سکتے ہیں`نہ منصب حاصل کر سکتے ہیں`
*جو صرف لینا جانتے ہیں وہ ڈاکو ہوتے ہیں
لہذا ڈاکو نہ بنیں بلکہ ایک ہاتھ سے دینے اور دوسرے سے لینے کے فطری طریقہ پر عمل کر کے سکھی رہیں
آپ کسی کو کچھ نہ دیں مگر لینے کی ضد کر کے دکھی بھی نہ ہوا کریں
اخلاق،صدقہ،منصب،عزت،محبت،مال دولت،علم،
یہ سب اشیاء اسی طرح حاصل کی جاسکتی
✍️ از قلم وفا نور
چڑیا حلال ہے اس لیے بے خطر زمیں پہ اترتی ہے اور دانہ چگتی ہے اسے پکڑے جانے کا خوف نہیں ہوتا۔
وہ جانتی ہے اسے رزق بنایا گیا ہے۔ وہ معصوم ہے۔
اس کے بر عکس کوّا حرام ہے۔ اس کے باوجود زمیں پہ اترتے ہوئے خوف زدہ رہتا ہے۔
اپنی عیاری ، شاطری کو کام میں لاتے ہوئے ہر پل چوکس رہتا ہے حالانکہ وہ کسی کی خوراک کا نوالہ نہیں بن سکتا۔
پھر وہ اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟
یہی حال سچے اور جھوٹے کا ہے۔
سچا شخص کسی بھی محفل میں ہو بے خطر رہتا ہے اس کے اندر کوئی خوف نہیں ہوتا۔ اسے بولتے وقت سوچنا نہیں پڑتا۔
جبکہ جھوٹے شخص کو ہمیشہ چوکس رہنا پڑتا ہے کہ اس کا بولا ہُوا جھوٹ اس کے گلے نہ پڑ جائے۔
اسے بولتے وقت پچھلی کہی ہوئی ساری باتیں یاد رکھنی پڑتی ہیں۔
گویا کہ اُن کے ساتھ بھی یہی کوّے اور چڑیا والا حساب ہوتا ہے۔
از قلم وفا نور آفریدی
ان لوگوں کو کبھی نہ بھولیں جنہوں نے آپ کے مقصد کو حاصل کرنے میں آپ کی مدد کی۔💯
از قلم وفا نور آفریدی
آپ کے الفاظ یوں دل سے آر پار ہوتے ہیں
لہذا الفاظ سوچ کر ادا کیا کریں
✍️ از قلم وفا نور آفریدی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain