حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کی (اپنی امت کے بارے میں) ایک دعا قبول ہوتی ہے ، پس ہر نبی نے دعا کرنے میں جلدی کی ، جبکہ میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے روز قیامت کے لیے چھپا رکھا ہے ، اور وہ (شفاعت) ان شاء اللہ ہر اس شخص کو پہنچے گی جو اس حال میں فوت ہوا ہو گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا ۔‘‘ مسلم ۔ اور بخاری کی روایت اس سے مختصر ہے ۔ متفق علیہ، رواہ مسلم ، و البخاری (۶۳۰۴) ۔
Dua اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ’’اے اللہ! بے شک میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور فتنۂ مسیح دجال سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور فتنۂ زندگی اور موت سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! یقیناً میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ Supplications to be free from debts/loans Reference: Al-Bukhari 1/202, Muslim 1/412.