اپنی موت تو ہم کئی بار مر چکے
💔
اب جو موت آئی تو اضافی ہو گی.
لوٹ آؤ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا
💔ابھی باقی ہے ایک رات دسمبر کی
کیا پچھدیں حال حوال ساڈے💘
تیکوں حال سنڑاواں رو پوسیں😖
ہن زخم ہزاراں ھاں دے وچ💔
تیکوں ہک ڈکھلاواں رو پوسیں😭
بخار سے تپتا ہوا وجود۔ درد سے پھٹتا سر۔ دکھتی آنکھیں
ایسا لگتا ہے کچھ ہی دن ہیں باقی زندگی کے💔😥
مجھ کو چھوڑ کے اس نے سب کا نام لیا
ہاتھ رکھا میں نے جب اسکی آنکھوں پر.
💓💞😊💯💔💔
دسمبر کی آخری شام ہے
شال تو اس نے اوڑھی ہوگی
آدھی پیالی پی لی ہوگی
آدھی عادتاً چھوڑی ہوگی
میری یاد! ارے کہاں یار
اُسے اتنی فرصت تھوڑی ہوگی
🖤💔
میں آکھیاسی مٹھ ریت دی آں مٹھ کھولی نا مینورولی نا.
توفیروی مٹھ نوں کھول دیتامینوآخرسجنارول دیتا.
💔
🔥 ہر سانس لگ رہی ہے ہمیں آخری یہاں 🔥
💔جی بھی کہاں رہے ہیں اگر مر نہیں رہے💔
تُجھ کو کیا خبر جاناں ہم اُداس لوگوں پر
شام کے سبھی منظر اُنگلیاں اٹھائیں گے...
پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ سکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پہ رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا
یہی قسمت ہماری ہے ستارو تم تو سو جاؤ تمہیں کیا آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا یہ بازی ہم نے ہاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دنیا سے یہ کیسی رازداری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
آنا ہے تو جیتے جی ہی آجاو زندگی میں
پهر میری میت پہ آکر سوائے فاتحہ کے کچھ کہہ نہ سکو گے💔
کبھی کبھی_ میری روح کی زندانوں میں قید
محبت کے گونگے بہرے لمحے__ چیخ پڑتے ہیں!!!
دل کرتا ہے۔
برسوں بعد۔۔۔۔
پھر کوئی مجھ کو فون کرے
اور نم آلود آواز سن کر۔
اک پل مجھ سے اتنا پوچھے
ٹھیک تو ہو ناں تم۔؟
💔💔💔
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﻟﻮﮒ____!
ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻮﺕ ﭘﮧ ﺧﻮﺏ ﺭﻭﺋﯿﮟ ﮔﮯ____!
ہم مر گئے تو سب کو دفنانے کی فکر ہو گی
کسی کو قبر تو کسی کو لے جانے کی فکر ہو گی
میرا نام پکارا جائے گا مسجدوں کے میناروں میں
کہیں دیر نہ ہو جائے جنازے کی فکر ہو گی
پہلے روتے تھے میرے مرنے کے افسوس میں
ہم چلے گئے تو اُن کو کھانے کی فکر ہو گی
جوں ہی شام ہو گی پریشانی بڑھ جائے گی
کتنے مہمان آ گئے سلانے کی فکر ہو گی
پھیکے چاول بنائے گے یا گوشت بنائے گے
سب کو برادری میں عزت بنانے کی فکر ہو گی💔💔
اُداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا
وہ چاہتا ، تو مِرے ساتھ چل بھی سکتا تھا
وہ شخص! تُو نے جسے چھوڑنے میں جلدی کی
تِرے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا
وہ جلدباز! خفا ہو کے چل دِیا، ورنہ
تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا
اَنا نے ہاتھ اُٹھانے نہیں دِیا ، ورنہ
مِری دُعا سے، وہ پتّھر پگھل بھی سکتا تھا تمام عُمر تِرا منتظر رہا ذیشان
یہ اور بات کہ ، رستہ بدل بھی سکتا تھا😞
💔
تیری ہر بات محبت میں گوارا کرکے
دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارا کرکے
آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزہ ذکر تمھارا کرکے
ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے
وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کرکے
آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کرکے
میں وہ دریا ہوں کہ بوند بھنور ہے جس کی
تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کرکے
منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
چاند کو چھت پہ بلا لونگا اشارہ کرکے
بہتے ہوئے اشکوں کی روانی میں مرے ہیں.
کچھ خواب میرے عین جوانی میں مرے ہیں.
ہم کو قبروں میں نہیں کتابوں میں اتارو,,,,,
🖤مرشد🖤
ہم لوگ تو محبت کی کہانی میں مرے ہیں✍️👍❤️

خدا کرے کہ تجھے اس پہر میں یاد آؤں
کہ جس پہر ترا خود پر بھی اختیار نہ ہو
🖤🖤
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain