شب کو شب نہیں کہتے دن کو رات کہتے ہیں اب ہم فقط اپنی مرضی کی بات کہتے ہیں چھوڑو پیار کی باتیں عشق کے قصے ایسی باتوں کو ہم خرافات کہتے ہیں وہ جو ہم نے کھایا تھا وہ تو دھوکا تھا پر جو آپ کو ملا اسے شہ مات کہتے ہیں ہم نہیں رکھتے کسی سے بھی وفا کی امید ہم جہاں رہتے ہیں اسے اوقات اسے کہتے ہیں وہ جو وفاؤں کے بدلے جفا دیتا ہے سادہ لفظوں میں اسے بدذات کہتے ہیں🖐️ 💯℅ riGht. 🔥🔥
یاد آؤں تو بس اتنی سی عنایت کرنا اپنے بدلے ہوئے لہجے کی وضاحت کرنا تم تو چاہت کاشاہکارہواکرتے تھے کس سےسیکھا ہےالفت میں ملاوٹ کرنا ہم سزاؤں کے حق دار بنے ہیں کب سے تمہی کہہ دو کہ کیا جرم ہے محبت کرنا تیری فرقت میں یہ آنکھیں ابھی تک نم ہیں کبھی آنا میری آنکھوں کی زیارت کرنا 🥀🖤