لکھا ڈاکٹر نے دوا کی جگہ اُسکا نام
اور یہ بھی لکھا صبح دوپہر شام
محبّت اظہار چاہتی ہے
اور بار بار چاہتی ہے
اتنے سستے کہاں ہیں ہم
وہ تو تیرے واستے رعایت کی تھی
رشتہ بنانا اتنا آسان ہے
جیسے مٹی پہ مٹی سے مٹی لکھنا
اور رشتہ نبھانا اتنا مشکل ہے
جیسے پانی پہ پانی سے پانی لکھنا
نوازش کیجیے ہم پر
تحفہ قبول کر کے
لفظوں کی بناوٹ کے ساتھ
دل کا نذرانہ پیش کرتے ہیں
مجھے لے چل اپنے سنگ پیا
میری آنکھ میں تیرا رنگ پیا
اب مجھ کو “ میں” سے “ تو ” کردے
میں اپنے آپ سے تنگ پیا
بغیر جانے پہچانے اقرار نہ کیجیے
مسکرا کر دلوں کو بے قرار نہ کیجیے
کبھی کبھی پھول بھی دے جاتے ہیں زخم گہرے
ہر پھول پر یوں اعتبار نہ کیجیے
آج مجھے یہ بتانے کی اجازت دے دو
آج مجھے یہ شام سجانے کی اجازت دے دو
جانا اپنے عشق میں مجھے قید کر لو
آج جان تم پر لٹانے کی اجازت
شام کی لالی رات کا ‘ کاجل
اور صبح کی تقدیر ہو تم
چلتا پھرتا تاج محل
اور سانسیں لیتا کشمیر ہو تم
Zalim-Duniya-Ka-Zalim-Larka
: ترستا ہے دل آپکی آواز کے لیے آپکے پیار بھرے چند الفاظ کے لیے آرزو ہے آپکی -
زندگی میں سب لوگ
رشتہ دار یا دوست بن کر نہیں آتے
کچھ لوگ
سبق بن کر بھی آتے ہیں
مت پوچھ صبر کی انتہا کہاں تک ہے
تو ستم کر تیری طاقت کہا ں تک ہے
اتنا بھی خوبصورت نہ ہوا کر اے موسم
اب ہر کسی کے پاس محبوب نہیں ہوتا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain