سکہ بنا کے جب اچھالا گیا مجھے۔
میں ان کی ہار جیت میں تقسیم ھو گیا۔
پہلے تو ترک تعلق کی وبا پھیلے گی۔
اور پھر محبت سے انکار کیا جائیں گا۔😒
مر بھی جاو تو کہا لوگ ہی دینگے۔
لفظ میرے مرے ھونے کی گواہی دینگے۔
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار۔
جیسے اس بار تو پت چھڑ سے بچا ہی دینگے۔
قدموں میں بھی تھکان تھی گھر بھی قریب تھا۔
پر کیا کرے کے اب کے بار سفر ہی عجیب تھا۔
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں۔
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آوں گی۔
نہ جانے کون سا آسیب بستا ہیں اس دل میں ۔
کے جو بھی ٹہھرا آخر مکان چھوڑ گیا۔
محبت سے مارو تو مر جائے گے۔
ہم۔گاوں کے لوگ زیادہ سیانے نہیں ھوتے۔
مقدر میں رات کی نیید نہیں تو کیا۔
ہم دن میں رج کے سوتے ہیں۔
گروپ میں کوئی سیٹنیگ کرتا ھوا پکڑا گیا تو بلاک ۔
جس طرح ایڈمن سنگل ہیں عوام بھی سنگل 😋
فقط زنجیر بدلی جارہی تھی۔
میں سمجھا رہائی ھو گئی ہیں۔