کھ دیا اکڑا گل گل تے وکھنا اے۔ اک واری دس دے دس دے کی چھوندہ اے۔ او کم ہی کیوں کردا اے۔ جس کر کےمچا وے۔ مینوں چھڑکا ایج مارے جیوے تو ہی سچا اے۔ سچی دل ڈردا اے کتے ساہ ہی نہ رک جے۔ پھلا جیا رشتہ نال تانیاں نہ ٹوٹ جے۔ گل دل دی کھول کوئی کے دل ھو جائے ھولے۔ اک ہاتھ نہ چھڈ میرا ۔دوجا بے جا کولے۔
تجھے بھی خوف تھا تیری مخالفت کروں گا میں۔ اور اب اگر نہیں کروں گا تو غلط کروں گا میں۔ اسے کہو عہد ترکے رسموں راہ لکھ کے دے۔ کلائی کاٹ کر لہو سے دستخط کروں گا میں۔
دل میں وہ سوز انتظار نہیں۔ شمع امید بجھ رہی ھو کیا۔ اب میری کوئی زندگی ہی نہیں۔ اب بھی تم میری زندگی ھو کیا۔ اب میں سارے جہاں میں ھو بد نام۔ اب بھی تم مجھ کو جانتی ھو کیا۔ کیا کہا عشق جاودانی ہیں۔ آخری بار مل رہی ھو کیا۔ مل رہی ھو بڑے تپاک کے ساتھ۔ مجھ کو یکسر بھلا چکی ھو کیا۔
اٹھا کر کیوں نہ پھینکے ساری چیزیں۔ فقط کمرے میں ٹہلا کیوں کرے ہم۔ نہیں دنیا کو جب پرواں ہماری۔ تو دنیا کی پرواں کیوں کرے ہم۔ برہنہ ہیں سرے بازار تو کیا۔ بھلا آندھوں سے پردہ کیوں کرے ہم۔ ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی۔ تو پھر خود پر بھی بھروسہ کیوں کرے ہم۔