یہ وقت کا طمانچہ تھا ۔ ہاں وقت کا طمانچہ ! زندگی کو گپ سمجھتا رہا تھا ۔ آج وہ خود گپ بن گیا تھا ۔ پروفیسر کے پانچ سال پہلے کہے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے ۔ "زندگی گپ نہیں ، تمھارے ساتھ بیٹھے یہ دوست دو تین سال بعد تمھیں چھوڑ جائیں گے ۔ اپنا فیوچر تم نے خود اکیلے گزارنا ہے ، دوستوں نے نہیں" ان الفاظ کی سمجھ آج ہی آئی تھی ۔۔۔۔۔۔ پیچھے گزرا وقت جسے واپس لانا ممکن نہ تھا اور آگے اندھیرا تھا ۔ 😕