وہاں کتنوں کو تخت و تاج کا ارماں ہے کیا کہیے جہاں سائل کو اکثر کاسۂ سائل نہیں ملتا یہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے یہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا
ٹھہرو ذرا، کہ مَرگِ تمنا سے پیشتر، اپنی رفاقتوں کو پلٹ کر بھی دیکھ لیں گذری مسافتوں پہ بھی ڈالیں ذرا نظر قُربت کی ساعتوں کا مُقدّر بھی دیکھ لیں شاید کہ مِل سکیں نہ نئے موسموں میں ھم جاتی رُتوں کے آخری منظر بھی دیکھ لیں احمد فراز۔۔🖤