انسان خود اعتبار کے قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔
بلکہ۔۔
اس کی سچائی اور کردار اسے قابل اعتبار بناتی ہے۔۔۔!
مجھے لہجوں کی گرمی مارتی ہے
میرے اس مسلے کا حل نکالو ______!!!
پرندے لوٹ آتے ہیں مگر یہ آدمی عابی !
ذرا سے پر نکلتے ہی ٹھکانے چھوڑ جاتے ہیں
میں تو خود پر بھی کفایت سے اُسے خرچ کروں
وہ ہے مہنگائی میں مُشکل سے کمایا ہوا شخص
کسی روز یاد نا کر پاؤ تو خود غرض نا سمجھ لینا
میں وقت کی اس دہلیز پہ ہوں جہاں زندگی موت لگتی ہے
وہ جو ایک سانولی سی لڑکی تهی
سنا ہے ہجر نکهار گیا ہے اسکو...
جیتنے کے لئے ایک عمر درکار ہوتی ہے۔۔۔
اور ہارنے کے لئے لمحے بھر کی غفلت!!!
وہ پوچھنا یہ تھا
اگر موڈ آف ہو جائے
تو آن کیسے کرتے ہیں 😕
گرد کی تہہ میں ہی رہنے دو آسودہ اسے،
زندگی اگر آئینہ دیکھے گی تو ڈر جائے گی۔۔۔