Damadam.pk
Zinyaa's posts | Damadam

Zinyaa's posts:

Zinyaa
 

کون مجھے چاہے گا تیری طرح اے رب❤
کون ڈالے گا میرے عیبوں پہ پردہ بار بار ❤

Zinyaa
 

بعض اوقات ہم ذہنی سکون کے
علاوہ اور کچھ نہیں چاہتے 🔥🌚🥀

Zinyaa
 

#ماں کا ہاتھ پکڑ کر رکھیں....
#کسی کے پیڑ پکڑنے کی ضرورت نہیں
پڑے گی...☺

Zinyaa
 

قدرت کا قہر بھی ضروری تھا صاحب
👇
ہر شخص خود کو خدا سمجھنے لگا تھا

Zinyaa
 

وہی فلورکشن پر سر رکھ کر لیٹ گیا
آئلہ نے دوچار بار سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا لیکن اس کی بند آنکھوں سے پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے کافی دیر گزر گئی
وہ جب اس کے ساتھ آئی تھی تو ساڑھے چار بج رہے تھے اور اب چھ ہو رہے تھے صبح سے وہ جتنے مشکل حالات کا سامنا کر رہی تھی اب تھک کر نڈھال ہو چکی تھی اور کچھ غنودگی بھی طاری ہو رہی تھی
وہ نیند کو بھگانےکی پوری کوشش کر رہی تھیلیکن اس خیمے کا آرام دہ ماحول اسے کامیاب نہیں ہونے رہا تھا
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک کپ چائے بنا کر پی لے لیکن ایسا کرنا اس کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا
اس لیے خود پر ضبط کیے بیٹھی رہی اور پھر نا جانے کب بیٹھے بیٹھے ہی سوگئی
جاری ھے

Zinyaa
 

شکاری اتنے شاہانہ انداز میں تو کسی کو شکار کرتے نہیں دیکھا یہ صاحب تو لگتا ہے ہیاں مستقل قیام فرماتے ہیں
وہ اس کی آمد کا نوٹس لیے بنا اپنے لیے چائے بنانے میں مصروف تھا جب چائے بن گئی تو آرام سے فلورکشن پر ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا اور سپ لینے لگا
اپنی اتنی انسلٹ پہ اسے سخت غصہ آرہا تھا لیکن کوئی اور جائے پناہ نہیں تھی اس لیے مجبورا خود کو گھسیٹتی وہی قالین پر سمٹ سمٹا کر بیٹھ گئی وہ بڑی مشکل سے خود کو سمجھا رہی تھی اور اپنی انا اور اونچی ناک کو تھپک تھپک کر سلا رہی تھی
ذرا سوسوچو اگر یہ نا ملتا تو کیا ہوتا وہ زخمی شیر تو کب کا مجھے ثیڑ پھاڑ چکا ہوتا ان حالات میں اس کا ملنا بھی غنیمت ہے وہ مسلسل خود کو سمجھا رہی تھی اور وہ بڑی خاموشی کے ساتھ اسے خود سے جنگ کرتے دیکھ رہا تھا جب چائے پی چکا تو وہی فلورکشن پر سر رکھ کر لیٹ گیا

Zinyaa
 

لیکن حالات کا تقاضا تھا کہ گدھے کو باپ بنا لیا جائے اس لیے اس نے چہرے کے تاثرات بھی دوستانہ رکھے اس کا خیمہ کیا تھا پورا لگژری بیڈروم تھا کم از کم اس نے زندگی میں جتنے خیمے دیکھے تھے ان سب سے مختلف تھا پورا خیمہ تو وال ٹو وال کارپٹڈ تھا میرون کلر کا دبیز اور آرقم دہ قالین جس پر سبز اور سنہری پرنٹ تھا سنگل فولڈنگ بیڈ جس پر ہلکے نیلے رنگ کی چادر بچھی تھی اور سائیڈ پر فولڈنگ چیئر رکھی تھی ذرا آگے ایک میز تھی جس پر ٹائم پیس، ٹیپ ریکارڈ، دوچار کتابیں اور سگریٹ کی ڈبیا رکھی تھی بیڈ کے سامنے یعنی خیمے کی دوسری دیوار کے ساتھ دو فلورکشن رکھے تھے ایک عدد ڈسٹ بن بھی تھا اور ساتھ ہی ایک میز پر چولہا رکھا تھا اسی میز پر دوچار برتن اور کچھ کھانے پینے کا سامان بھی نظر آرہا تھا یاالہی یہ کوئی نواب صاحب ہیں یا شکاری

Zinyaa
 

وہ اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد سوچ رہی تھی اسی وقت جیپ ایک جھٹکے سے رکی
اس سے کچھ بھی کہے بغیر وہ ایک جھٹکے سے جیپ سے نیچے اترا اور سامنے نسب خیمے کا پردہ اٹھا کر اندر چلا گیا
وہ اس کی بدتمیزی پر کھول کر رہ گئی
اتنا بےہودا اور بدتمیز انسان ہے نا اگر مدد کر ہی دی تھی تو کچھ انسانیت کا ثبوت تو دے دے وہ وہی جیپ میں بیٹھی جل رہی تھی
جب یونہی بیٹھے بیٹھے دس پندرہ منٹ گزر گئے اور وہ دوبارہ باہر نا نکلا تو مجبورا وہ خود جیپ سے نیچے اتری اور بن بلائے مہمان کی طرح خیمے میں داخل ہو گئئ اسے اپنی اس بےشرمی پر سخت تائو آرہا تھا

Zinyaa
 

اسے شاید ہر کام تیز رفتار کرنا پسند تھا
تیز چلنا 'تیز گاڑی چلانا اور تیز آواز میں بھول کر سامنے والے کو دہلانا
اس کی طرف تو اس نے سرسری نظر سے بھی نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ چوری چوری کتنی بار اس کی طرف دیکھ چکی تھی
بلیک جینز بلیک ہی جیکٹ لانگ شوز کندھے سے لٹکتی رائفل جیکٹ کی جیب میں ٹھونسا ریوالور اور پینٹ کی جیب میں اڑسا خنجر
وہ شاید کوئی پروفیشنل شکاری تھا اس لیے 11 کی جیپ چلانے کا انداز اور اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے وہ اس جگہ اور یہاں کے حالات سے مکمل آگاہی رکھتا ہے آئلہ کے دل کو کچھ اطمینان ہوا
شکر ہے درست بندے کے پاس پہنچ گئی اگر یہ بھی میری طرح انجان آدمی ہوتا تو میں تو گئی تھی کام سے
وہ اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد سوچ رہی تھی

Zinyaa
 

خوفناک جنگل میں خوف اور دہشت سے ہی مر جائوں گی
اس کے سامنے وہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی آنکھوں میں التجا تھی
وہ دو چار منٹ اسے گھورتا رہا پھر آگے بڑھتا ہوا بولا آئو
وہ جو اتنی دیر سے امیدوبیم کی کیفیت میں کھڑی تھی ایک دم پرسکون ہو کر اس کے پیچھے چل پڑی
جب کہ وہ اس بات سے قطعا بے نیاز نظر آرہا تھا کہ وہ اس کے پیچھے آرہی ہے یا نہیں آئلہ تقریبا بھاگ رہی تھی لیکن پھر بھی اس سے کافی پیچھے تھی بھاگتے بھاگتے اس کی ٹانگیں بری طرح شل ہوگئی تھی سانس پھول گیا تھا
لیکن وہ پھر بھی بھاگ رہی تھی یوں جیسے اسے خوف ہو کہ وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے گا اسے شاید ایسے بھاگتے دوڑتے آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا جب وہ ایک جیپ کے پاس جا کر رک گیا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے ساتھ والی سیٹ کا دروازہ کھول دیا آئلہ کے بیٹھتے ہی اس نے جیپ فل سپیڈ میں دوڑانہ شروع کر دی
ا

Zinyaa
 

وہ بڑی سست روی سے چل رہا تھا اس لیے آئلہ نے دو چار سیکنڈ میں ہی اسے جا لیا اور پھولی ہوئی سانس سے اس سے مخاطب ہوئی
دیکھئے میں یہاں راستہ بھول کر آگئی ہوں آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ میری مدد کر دیں تو۔ وہ جو اس کے بھاگ کر اپنے پیچھے آنے پر حیران تھا اس کی بات سن کر بے نیازی سے بولا
اول تو مجھے خدمت خلق کا کوئی شوق نہیں دوئم آگر ہوتا بھی تو تمہاری تو ہرگز نہ کرتا میری طرف سے معذرت
اس پر ایک سخت غصے سے بھرپور نگاہ ڈال کر جیسے ہی آگے بڑھا آئلہ اس کے سامنے آگئی اور ہاتھ جوڑ کر بولی
پلیز آپ میری مدد کریں آپ کو انسانیت کا واسطہ دیکھیں میں جان بوجھ کر نہیں چیخی تھی آپ مجھے معاف کر دیں میں اس خوفناک جنگل میں خوف اور دہشت سے ہی مر جائوں گی

Zinyaa
 

آپ سے باتیں کر رہا تھا
اور وہ رونا دھونا بھول کر بس زخمی شیر کے نام پر دہل گئی اس کی خوف سے پھیلی آنکھوں پر نظر پڑی تو طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا
تم تو اپنی خیر منائو کیا پتا میری بجائے تم ہی اس کے ہتھے چڑ جائو بڑا عیار ہے تین دن سے مجھے نچاکر رکھا ہوا ہے کچھ تمہیں بھی سزا ملے یوں بے موقع چیخنے کی
اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بنا وہ آگے بڑھ گیا ۔
یہ تو شاید واپس جا رہا اوہ مجھے اسی سے ہیلپ مانگنی چاہئے جیسا بھی آخر ہے تو انسان نا چاہے جلاد نما ہی سہی اس زخمی شیر سے تو بہتر ہے نا اگر یہ بھی چلا گیا تو میرا کیا بنے گا اس سوچ کا ذہن میں آنا تھا کہ وہ جو اتنی دیر سے مستقل ایک ہی اینگل میں بیٹھی تھی اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگی
چیخ کر اسے قصدا آواز نہیں دی کہ وہ پہلے ہی اس کے چیخنے سے چڑا ہوا تھا

Zinyaa
 

بول رہا تھا انداز ایسا تھا جیسے اسے کچا چبا جانا چاہتا ہو
تین دن سے اس کی تاک میں تھا آج جا کر یہ سنہری موقع میرے ہاتھ آیا تھا پر تم پتا نہیں کیا سے نازل ہو گئیں نہ یو فضول طریقےسے چیختیں نہ وہ چونکتا صرف تمہاری وجہ سے میرا نشانہ چونک گیا اور گولی اس کی ٹانگ میں لگی وہ بری طرح اس پر برس رہاتھا اور وہ خاموشی سے آنسو بہانے میں مصروف تھی
پتا نہیں وہ جھاڑیوں میں کہاں چھپ گیا ہے زخمی شیر کو تو یوں چھوڑا بھی نہیں جاسکتا اب تو میری بجائے وہ میری تاک میں ہوگا آخر اسے اپنے ذخمی کیے جانے کا انتقام بھی تو لینا ہے
وہ خودکلامی کرنے میں مصروف تھا وہ کچھ سوچتے ہوئے اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا

Zinyaa
 

یااللہ! یہ کس جرم کی سزہ ہے اتنے ویران اور خوفناک جنگل میں اتنے ہی خوفناک آدمی سے پالا پڑا ہے یااللہ مدد فرما وہ خاموشی سے آنسو بہاتی اپنی چوٹیں سہلا رہی تھی جب وہ واپس آتا دکھائی دیا
آئلہ نے دور سے اسے اپنی سمت آتے دیکھا تو نئے سرے سے سہم گئی اس کی خوفناک سی دھمکی اسے بری طرح خوفزدہ کر گئی
تمہاری وجہ سے میری اتنے دنوں کی محنت ضائع ہوگئی اسٹوپڈ لڑکی میرا دل کر رہاہے تمہارا گلا دبا دوں تمہیں اتنی بے تکی سی چیخ مارنے کی کیا ضرورت تھی اگر اتنی ہی بے ڈرپوک ہو تو اس جنگل میں کیا کر رہی ہو
جاکر اپنے گھر بیٹھو آرام سے وہ اس کے اوپر کھڑا اسے گھورتا ہوا بول رہا تھا انداز ایسا تھا جیسے اسے کچا چبا جانا چاہتا ہو

Zinyaa
 

وہ بدستور اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اسے گھسیٹتا چند قدم پیچھے ہٹا اور پھر دور لا کر زور سے زمین پر پٹختا ہوا بولا
بغیر کوئی آواز نکالے یہاں لیٹی رہو۔ پہلے ہی میرا سارا پلان چوپٹ کر دیا ہے اگر ذرا سی بھی آواز نکالی تو چھوڑوں گا نہیں
آئلہ بیچاری تو اتنی پتھریلی اور کھردری زمین پر پٹخے جانے پر اپنی بازو سے نکلتا خون ہی دیکھتی رہ گئی اور وہ دوبارہ آگے بڑھ گیا
اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلے

Zinyaa
 

وہ_اک_ایسا_شجر_ہو
#تحریر_فرحت_اشتیاق
قسط 1
سناٹے کو چیڑتی فائر کی آواز گونجی تھی اور ساتھ ہی کسی جانور کی خوفناک سی چنگھاڑ بھی سنائی دی تھی۔ وہ جو پہلے ہی حواس باختہ سی ڈری سہمی نظروں سے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی اس اچانک افتاد پر بے ساختہ بوکھلا کر ایک طویل و عریض چیخ اس کے منہ سے برآمد ہوئی.
پھر اس چیخ کا گلا بڑی بے دردی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھونٹ دیا گیا اور ساتھ ہی انگریزی میں نہایت سفاک لہجے میں کہا گیا
خبردار کوئی حرکت کی یا آواز نکالی تو جان سے مار دوں گا اور وہ بےچاری تو پہلے ہی اتنی سہمی ہوئی تھی باقی کسر اس کے سفاک لہجے نے نکال دی اس سے تو خوف کے مارے پیچھے مڑ کر یہ تک نہ دیکھا گیا کہ اسے دھمکانے والا جلاد آخر ہے کون

Zinyaa
 

سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
حوصلے انتہا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رکھتے ہیں !!!
ہم کبھی بد دعا نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
ہم سلیقے دعا کے رکھتے ہیں !!!
اُن کے دامن بھی جلتے دیکھے ہیں
وہ جو ۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن بچا کہ رکھتے ہیں !!!
ہم نہیں ہیں شکست کے قائل !!
ہم سفینے جلا کے رکھتے ہیں !!!
جس کو جانا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلا جائے !!
ہم دیئے سب بجھا کے رکھتے ہیں !!!
ہم بھی کتنے عجیب ہیں، محسن !!!
درد کو دِل بنا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!!

Zinyaa
 

جیسے ممکن ہو بچا لو یہ اُجڑتے ہوئے شہر
پھر نہ یہ رنگ نہ چہرے نہ مکاں دیکھو گے

Zinyaa
 

اگر دكاندار کو 1000 کا نقلی نوٹ دے کے 640 کا سامان لیا جائے تو بتاؤ دوكاندار کو کتنے پیسوں کا نقصان ہو گا ؟
دماغ والے لوگ

Zinyaa
 

💕❤صــلی اللَّــہ عـلیہ
وآلـہ وســلم ــــــ❤💕