نبھا رہا ہوں میں زندگی سے، ہزار دکھ ہیں مجھے جو پتھر بنا گئے تین چار دکھ ہیں خوشی تمہارے ہی ساتھ تھی سو نہیں میسر کہ بعد تیرے تو ہر طرف میرے یار دکھ ہیں __!
ہم نے دھڑکن دھڑکن کر کے دل تیرے دل سے جوڑ لیا آنکھوں میں آنکھیں پڑھ پڑھ کے تجھے ورد بنا کر یاد کیا تجھے پیار کیا تو تو ہی بتا ہم نے کیا کوئی جرم کیا اور جرم کیا ہے تو یہ بھی بتا میرے جرم کے جرم کی کیا ہے سزا تمہیں ہم سے بڑھ کر دنیا دنیا تمہیں ہم سے بڑھ کر ہم کو تم سے بڑھ کر کوئی جان سے پیارا نا ہو گا.. بول کفارہ کیا ہو گا
گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا کہ اب مزاج بنا لیجئے شکاری کا ہم احترامِ محبت میں سر جھکاتے ہیں غلط نکال نہ مفہوم خاکساری کا وہ بادشاہ بنے بیٹھے ہیں مقدر سے مگر مزاج ہے اب تک وہی بھکاری کا سب اُس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھنے لگتے ہیں وہ ایسا ڈھونگ رچاتا ہے شرمساری کا جنہیں بلندی پہ جانا ہے جست بھرتے ہیں وہ انتظار نہیں کرتے اپنی باری کا
ہوٹل پر بیٹھے ایک شخص نے دوسرے سے کہا یہ ہوٹل پر کام کرنے والا بچہ اتنا بیوقوف ہے کہ میں پانچ سو اور 50 کا نوٹ رکھوں گا تو یہ پچاس کا نوٹ ہی اٹھاۓ گا اور ساتھ ہی بچے کو آواز دی اور دو نوٹ سامنے رکھتے ہوئے بولا ان میں سے زیادہ پیسوں والا نوٹ اٹھا لو بچے نے پچاس کا نوٹ اٹھا لیا دونوں نے قہقہہ لگایا اور بچہ واپس اپنے کام میں لگ گیا پاس بیٹھے شخص نے ان دونوں کے جانے کے بعد بچے کو بلایا اور پوچھا تم اتنے بڑے ہو گے ہو تم کو پچاس اور پانچ سو کے نوٹ میں فرق کا نہیں پتا یہ سن کر بچہ مسکرایا اور بولا یہ آدمی اکثر کسی نا کسی دوست کو میری بیوقوفی دیکھا کر انجوائے کرنے کے لیے یہ کام کرتا ہے اور میں پچاس کا نوٹ اٹھا لیتا ہوں وہ خوش ہو جاتے ہیں اور مجھے پچاس روپے مل جاتے ہیں جس دن میں نے پانچ سو اٹھا لیا اس دن یہ کھیل بھی ختم ہو جاے گا اور میری آمدنی بھ