اے اللہ۔۔! اے الرحمن۔۔۔!! اے الرحیم۔۔۔!! اے کون و مکاں کے مالک۔۔۔!! اے دونوں جہاں کے خالق۔۔۔!! ہم گناہ گار ہیں، سیاہ کار ہیں، خطاکار ہیں، بدکار ہیں پر میرے مالک تیرے بندے ہیں تجھ سے مانگتے ہیں تیرے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں تجھ سے امیدیں لگاتے ہیں بے شک تو معاف کرنے والا ھے تو ہی معاف کرے گا۔۔ یااللہ۔۔! تیرا خزانہ بہت وسیع ھے میرے مالک تیرے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں اے اللہ ہمیں عطا کر اپنے خزانوں میں سے معافی، بخشش، رحمتیں، برکتیں، آسانیاں، عبادت، مہربانی، شکرگزاری، پرہیزگاری، مثبت سوچ، محنت، کفالت اولاد، کفالت والدین، کفالت ضرورت مند، مدگار ہاتھ بے شک تو عطا کرنے والا ھے یااللہ اپنے خزانہ غیب میں سے ہمیں یہ سب عطا کر۔۔۔ آمین
بخت کے تخت سے یکلخت.... اتارا ہوا شخص تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص ہم تو مقتل میں بھی آتے ہیں بصد شوق و نیاز جیسے آتا ہے....... محبت سے پکارا ہوا شخص
مسافر کے سفر کی صعوبتیں اس کے چہرے پر بہت کچھ لکھ جاتی ہیں۔گزرا ہوا زمانہ چہرے پر جُھریوں کی شکل میں موجود رہتا ہے۔آنکھوں سے بہنے والے آنسو‘ رخساروں پر بہت کچھ مُرتسم کر جاتے ہیں۔چہرہ آئینہ ہے انسان کے باطن کا۔دل کی بات‘دل کا حال چہرے پر ضرور نمایاں ہوتا ہے۔محتاج کا چہرہ اور ہے اور سخی کا اور !
2۔برطانیہ کاایک بہت بڑا مالدار آدمی ایک یہودی "رود تشلر"تھا۔وہ اتنا دولتمند تھا کہ کبھی کبھی حکومت اس سے قرض لیتی تھی۔اس نے اپنے عظیم الشان محل میں ایک کمرہ اپنی دولت رکھنے کے لئے مختص کیا تھا جو کہ ہر وقت سیم وزر سے بھرا رہتا تھا۔ ایک دفعہ وہ اس کمرے میں داخل ہوا اور غلطی سے دروازہ بند ہوا۔ دروازہ صرف باہر سے کھل سکتا تھا اندر سے نہیں ۔اس نے زور زور سے چیخ وپکار شروع کی لیکن محل بڑا ہونے کی وجہ سے کسی نے اس کی آواز نہ سنی۔ اسکی عادت یہ تھی کہ وہ کبھی کبھی بغیر کسی کو بتائے کئی کئی ہفتے گھر سے غائب رہتا تھا۔ جب وہ کسی کو نظر نہ آیا تو گھر والوں نے سوچا کہ حسب عادت کہیں گیا ہو گا۔ وہ برابر چیختا رہا یہاں تک کہ اسے سخت بھوک اور پیاس لگی۔ اس نے اپنی انگلی کو زخمی کیا اور کمرے کی دیوار پر لکھا "دنیا کا سب سے مالدار آدمی بھوک اورپیاس سے مر رہا