جو پوچھا کبھی شغلِ تنہائی اُن سے
کہا گنتے ہیں ہم خطائیں تمہاری
اور کچھ نہیں اثاثے میں
اِک بےکار سی اُداسی ہے
لہو رونے سے ڈرتا ہوں‘ جُدا ہونے سے ڈرتا ہوں
مری آنکھیں بتاتی ہیں کہ میں سونے سے ڈرتا ہوں
مری انگلی پکڑ لینا‘ مجھے تنہا نہیں کرنا
یہ دنیا ایک میلہ ہے‘ تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں
جو ہنستی ہو تو کیوں پلکوں کے گوشے بھیگ جاتے ہیں
تمہیں معلوم ہے میں اس طرح رونے سے ڈرتا ہوں
یہ جب سے خواب دیکھا ہے مجھے تم چھوڑ جاؤ گی
میں اب ڈرتا ہوں خوابوں سے میں اب سونے سے ڈرتا ہوں......
ذندگی سے بہت ہی بد ظن ہیں
کاش ! اک بار مر گئے ہوتے
زندگی کتنی مختلف تھی مگر......
ہم تیرے ساتھ مسکراتے رہے................
یہ وعدہ کر کے بہت روئے ہم بچھڑتے سمے.....
کہ ایک دوسرے کو یاد کر کے رونا نہیں............
ہم برے لوگ ہیں
برے وقت میں کام آئیں گے
مانا کے بہت جلد باز ہوں ۔۔۔۔۔ لیکن
تمہارے خواب تسلی سے دیکھتا ہوں
ذوقِ دید میں ھے تکلیف هر روز سراسر محسن
اچھے رهتے هیں وہ لوگ ، جو محبت نہیں کرتے
میں نکالتا ھوں , نظموں سے تلخیاں
تم اپنی دنیا کے ______ چین لے آؤ ...
تو اچانک جو کسی دن مجھے مڑ کر دیکھے
میں تجھے عمر کا ٹھہرا ہوا لمحہ لکھوں
ہم کے مامور ہیں دنیاؤں کی دل جوئی پر
ہم کسے جا کے سنائیں جو ہمارا دُکھ ہے..!!
جب انسان کو کسی سے رشتہ توڑنا ہو تو سب سے پہلے وہ اپنی زبان کی مٹھاس ختم کر لیتا ہے ۔
ﺣﻘﯿﻘـﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮩﺮِ ﻣﺤﺒّﺖ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘـﺎ
ﭼﻠﻮ ﺁﺅ ،- ﺗﺼّﻮﺭ ﻣﯿﮟ اُﺳـﮯ ﺗﺨﻠﯿﻖ-ﮐﺮﺗـﮯ ﮨـﯿﮟ❤
تُجھے تکنا، تُجھے سُننا، ترا ہنسنا، مچل جانا........
ہمارے غم کے آنگن میں فقط دوچار خُوشیاں تھیں
💔
کیا میں ! تیرے بغیر جی لُوں گا ؟
غور سے دیکھ ، ایک بار مُجھے !!
اُداسیوں کا سبب جو لکھنا
تو یہ بھی لکھنا
کہ چاند چہرے ، شہاب آنکھیں
بدل گئے ہیں
وہ زندہ لمحے جو تیری راہوں میں
تیرے آنے کے منتظر تھے
وہ تھک کے سایوں میں ڈھل گئے ہیں
وہ تیری یادیں ، خیال تیرے ، وہ رنج تیرے ، ملال تیرے
وہ تیری آنکھیں ، سوال تیرے
وہ تم سے میرے تمام رشتے بچھڑ گئے ہیں ، اُجڑ گئے ہیں
اُداسیوں کا سبب جو لکھنا
تو یہ بھی لکھنا
لرزتے ہونٹوں پہ لڑکھڑاتی دُعا کے سورج
پگھل گئے ہیں
تمام سپنے ہی جل گئے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain