کافی عرصہ بیت گیا ہے
جانے اب وہ کیسا ہوگا
وقت کی ساری کڑوی باتیں
چُپکے چُپکے سہتا ہوگا
اب بھی بھیگی بارش میں وہ
بن چھتری کے چلتا ہوگا
مجھ سے بچھڑے عرصہ بیتا
اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
اچھا تھا جو ساتھ ہی رہتے
بعد میں اس نے سوچا ہوگا
اپنے دل کی ساری باتیں
خود سے خود ہی کہتا ہوگا
کافی عرصہ بیت گیا ہے
جانے اب وہ کیسا ہوگا ……؟؟؟
مُسکرانہ لازم ہو گیا ہے اب...🥀
غَموں سے شرط لگا لی ہم نے...🔥
یہ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻧﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﻟُﻮﭦ ﻟﯿﺎ
یہ ﮐﺲ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ پھوڑتے ﮨﯿﮟ ﺩﯾﻮﺍﻧﮯ !
اب اس کو کھو رہا ہوں بڑے اشتیاق سے
وہ جس کو ڈھونڈے میں زمانہ لگا مجھے
سمندر میں فنا ہونا تو قسمت کی کہانی ھے
جو مرتے ھیں کناروں پر مجھے دُکھ اُن پر ہوتا ھے
آ جاؤ کہ ہے دل کی طرح آنکھ بھی خالی ۔
پلکوں پہ جو آنسو تھے وہ اب سوکھ چلے ہیں ۔
🍂سفرِ زیست میں تیرے ساتھ کی خاطر،
میں نے وہ منزلیں بھی چھوڑیں، جو میرا مقدر تھیں۔🖤🔥
ﻭﯾﺮﺍﻧﮧٔ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﻣﻨﺰﻝ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩُﻭﺭ ﺗﮭﯽ، ﺭﺳﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﺳﺎﯾﺎ ﻣﺜﺎﻝ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ
ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﺭﺍﺕ ﺗﻮ ﮈﮬﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﮐﮩﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺟﻮ ﮨُﻮﺍ ﻣﻨﺤﺮﻑ ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﮑﮭﺎ ﮨُﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﻣﺤﺮﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﮐﯽ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ
ﮨﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻨﺞِ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮕﮭﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﮨﻢ ﭼﮍﮬﺘﮯ ﺳُﻮﺭﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻼﻣﯽ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﮯ
ﺳَﻮ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﯽ ﺩُﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﺗﮭﺎ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮧ ﮨﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻏﻠﻂ
ﺍﻭﺭ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﭼﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﺷﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺍِﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﭘﮭﺮﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﺩﻝ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﭘر ﺑﮩﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ
ﺍﻣﺠﺪ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ
ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮔﺮﮮ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﺎ ﭘﮍﺍ ﮨﻤﯿﮟ