بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میں ذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میں محبت اپنے لیے جن کو منتخب کر لے وہ لوگ مر کے بھی مرتے نہیں محبت میں میں جانتا ہوں کہ موسم خراب ہے پھر بھی کوئی تو ساتھ ہے اس دکھ بھری مسافت میں اسے کسی نے کبھی بولتے نہیں دیکھا جو شخص چپ نہیں رہتا مری حمایت میں بدن سے پھوٹ پڑا ہے تمام عمر کا ہجر عجیب حال ہوا ہے تری رفاقت میں مجھے سنبھالنے میں اتنی احتیاط نہ کر بکھر نہ جاؤں کہیں میں تری حفاظت میں یہاں پہ لوگ ہیں محرومیوں کے مارے ہوئے کسی سے کچھ نہیں کہنا یہاں مروت میں
💞کبھی یاد آؤں تو پوچھنا💞 💞ذرا اپنی فرصتِ شام سے💞 💞کِسے عِشق تھا تیری ذات سے💞 💞کِسے پیار تھا تیرے نام سے💞 💞ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا 💞 💞جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا 💞 💞وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے💞 💞وہ جو مر مٹا تیرے نام پے💞 💞ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ💞 💞کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ💞 💞مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟💞 💞گئے ہم دعا ؤ سلام سے
وہم و گماں کے سلسلے محسوس ہوتے ہو تم مجھ کو میرے سامنے محسوس ہوتے ہو اے میرے صحن کے کوئی بوسیدہ سے درخت جھولا جھلاتے تم بڑے محسوس ہوتے ہو خوش آمدید تم اگر آ ہی گئے ہو پاس جاگے ہوئے تو رات کے محسوس ہوتے ہو
پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کر دی اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔ سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔" پھر بولا، "صاحب، یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیا جاتے ہیں۔" سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر☝ End
ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔ مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔ ملازم کی تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔ مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟" ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟ میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔