وہ جو دشمن ہے تو پھر زخم نیا دے کوئی
وہ جو میرا ہے تو پھر عیب چھپا لے میرے
اب میرے ذکر پر موضوع ہی بدل دیتا ہے
وہ جو ہر بات پہ دیتا تھا حوالے میرے
دلِ نے حوصلہ نہیں پکڑا
ورنہ تم کو بھلا چکے ہوتے...
وہ اتفاق سے راستے میں مل جائے کہیں❤
بس اسی شوق نے ہمیں آوارا بنا دیا...
میری عادتوں میں شامل😘😊
تجھے دیکھنا تجھے سوچنا
کتاب عشق کے۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی پنے پر
مجبوریوں کا ذکر نہیں ملا مجھ کو
ہَم کـو ہِیں نَاز سَـارے مَعلُـوم
ہَم بِھی محبُوب رَہ چُکے ہِیں
میں شام کے منظر میں تحلیل شدہ اور
تم دور کسی گاؤں کی، مغرب کی اذاں ہو
میں پھیلے ھوے دشت کی بےانت فضا ہوں
تم چھوڑے ھوے لوگوں کا،ویران مکاں ہو
میں اس کی دسترس میں ہوں مگر
وہ مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
قُربت سے نا شناس رھے ، کچھ نہیں بنا
خُوش رنگ ، خُوش لباس رھے ، کچھ نہیں بنا
اب قہقہوں کے ساتھ کریں گے علاجِ عشق
ھم مدتوں اداس رھے ، کچھ نہیں بنا ۔۔۔۔۔۔۔🖤
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
آج کچھ بھی کہنے کا من نہیں
یوں کیجیے ____سمجھ لیجیے🔥
کِسی کے خواب تو ہونگے میرے جیسے
کوئی تو مجھ سا سوچتا ہو گا.... ❤️
ﻭﮦ ﺳﺎﻧﺤﮧ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ
ہم نے رہ وفا میں لُٹا دی ہے زندگی
اس پر بھی بےوفا ہیں تو ہم بے وفا سہی
دل پہ گراں گزرتی ہے اب تیری یاد بھی
یہ کس مقام پہ مجھے لے آئی زندگی
پھولوں میں رنگ ہے نہ ستاروں میں روشنی
تیری نظر کے ساتھ ہی دنیا بدل گئی
شائد تمہیں بھی شام کی تنہائیاں ڈسیں
شاید تمھیں بھی میری ضرورت پڑے کبھی
آنکھوں میں پھر کہ رہ گئیں رنگین چلمنیں
جب بھی کسی نے کوچہ جاناں کی بات کی
اے دوست تیری چاہ پہ سو چاہتیں نثار
قربان تیرے غم پہ زمانے کی ہر خوشی
دامن چھڑا کے چل دئیے وہ تمکنت کے ساتھ
دیکھا کیے ہم ان کو جہاں تک نظر گئی
مٹ سا چلا ہے دل سے خیال رخ حبیب
اک خواب ہو گئی ہے رہ ورسم دوستی
صحن چمن میں غنچہ خنداں کو دیکھ کر
یاد آگئی کسی کے لبوں کی شگفتگی
کیا چیز ہے ناجانے یہ پاس وفا قمر
ہم نے نگاہ یار کی ہر بات مان لی
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ
ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ
ﺗﯿﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ... ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺴﻤﯿﮟ
ﻭﮦ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ.. ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺗﮍﭘﺎ ﺑﮩﺖ ﺭﻭﯾﺎ
ﺗﺴﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ
ﮐﮩﺎ ﻣﺖ ﺭﻭ ﺍﮮ ﭘﮕﻠﮯ
!!!ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺐ ﺩﻝ ﻟﮕﯽ ﮐﺮﺗﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟؟؟
پلکوں پہ سو گئی ہے اُمیدوں کی روشنی
ہم زندگی میں کر کے چراغاں اُجڑ گئے ....!!!!
طلب اتنی ہےکہ دل وجان میں بسالوں تم کو
نصیب ایسے کہ دیدار بھی میسر نہیں ہےتیرا
💔جو سجائے رکھتے ہیں ہونٹوں پہ ہنسی کی کِرن💔
نہ جانے رُوح میں کِتنے شگاف رکھتے ہیں_!!💔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain