جنت کا سودا
اباجی آج پھر ٹوٹی ہوئی عینک کے ساتھ اخبار پڑھنے میں مصروف تھے ۔ میں جو دوکان پر پہنچا تو یہ منظر دیکھ کر جھنجھلا گیا۔
اباجی ۔ روز آپ سے کہتا ہوں کہ اپنی عینک بدل لیں آپ میری بات ہی نہیں مانتے ۔ ابھی چلیں میرے ساتھ آپ کی عینک بدلوا کر لاتے ہیں ۔
اباجی بولے یار پچھلی دفعہ توں آیا سی تے اے لئی سی ۔ فر دل ای نہیں کیتا انھوں بدلن دا ۔ چل چلدی آن بدلن
ابا جی اور میں عینک ساز کے پاس پہنچے اور نئی عینک لی ۔ جانے ابا کے ذہن میں کیا آیا انھوں نے عینک ساز سے بولا۔
پرانی عینک وی ٹھیک کر کے دو پتر۔
عینک ساز نے پرانی عینک کے بھی شیشے وغیرہ صاف کر کے ۔ فریم تبدیل کر کے ابا جی کو پکڑا دیا ۔
ابا جی نے نئی عینک آنکھوں پر چڑھا لی اور پرانی سامنے والی جیب میں ڈال دی ۔ اور گپیں لگاتے اباجی اور میں واپس ابا کی دوکان کی طرف چل پڑے
جانے کیوں لوگ مرا نام پڑھا کرتے ہیں
میں نے چہرے پہ ترے یوں تو لکھا کچھ بھی نہیں
اپنی بے قدری کی حد تھی😔
مرشد 💔👉
ہم میسر تھے ایسے ویسوں کو 😏
ہر شخص مری ذات سے جانے کے لیے تھا
تُو بھی مری ذات سے جانے کے لیے ہے
اور پڑھا لیکن اس لڑکے کی طرح ماں کی خدمت کرتے پہلے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔ اس لڑکے کی ماں کو بالکل شعور نہیں کہ وہ اس کا بیٹا ہے لیکن اس کا بیٹا اس کو انتہائی پیار کے ساتھ سنبھالتا اور اس کا خیال رکھتا ہے اور صرف اللہ کریم کی رضا کے لئے اپنی ماں کی خدمت کے لئے پوری کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اسے مینٹل اسپتال داخل کرا سکتا تھا لیکن اس نے اپنی ماں کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال خود کرنے کا انتخاب کیا تاکہ جنت کا دروازہ اس کی زندگی اور اس کے بعد انشااللّٰہ کھلا رہ سکے۔
بے شک جنت ماں کے قدموں میں ہے۔
یہاں تک کہ اگر آپ اپنی ساری زندگی اپنے والدین کے لئے قربان کردیں تو، آپ نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا!
“اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو اور (سب کو) اس دن معاف کر دینا جس دن حساب قائم ہوگا۔ ” آمین ثم آمین یا رب العالمین۔end
اسی دوران ماں نے کلینک میں لگے ٹی وی پر خانہ کعبہ کی تصاویر دیکھیں تو ماں نے بیٹے سے کہا، ارے تم مجھے مکہ کیوں نہیں لے گئے؟ بیٹے نے جواب دیا، جمعرات کو ماں، کیا میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا کہ میں آپ کو جمعرات کو عمرے کے لئے لے جاؤں گا۔
ڈاکٹر نے اسے کہا کہ آپ اپنی ماں کو عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ لے جائیں گے تو آپ کی پریشانی بڑھ جائے گی۔ بیٹے نے کہا کہ جب بھی میری ماں عمرہ کے لئے جانے کا کہتی ہے تو میں اسے مکہ مکرمہ لے جاتا ہوں، چاہے وہ کتنی بار جانا چاہے، میں نہیں چاہتا کہ میری ماں کچھ چاہے اور میں اس کی خواہش استطاعت ہونے کے باوجود پوری نہ کروں۔
اس ماں بیٹے کے جانے کے بعد ڈاکٹر اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بہت رویا۔ ڈاکٹر نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے والدین کے حقوق کی بابت بہت کچھ سنا اور پڑھا
لڑکے نے مزید بتایا کہ پہلے میری نانی میری ماں کا خیال رکھتی تھی پر جب وہ دس سال کا تھا تو نانی فوت ہو گئیں تو تب سے وہ خود اپنی ماں کا خیال رکھتا ہے۔ اس نے بتایا کہ جب وہ سونا چاہتا ہوں تو اپنا پاؤں ماں کے پاؤں کے ساتھ باندھ لیتا ہے تا کہ ماں اپنے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے یا اکیلی گھر سے نہ نکل جائے۔
ڈاکٹر کے چیک اپ کے دوران لڑکے کی ماں نے بچوں کی سی ضد سے چپس مانگنے شروع کئے تو اس کے بیٹے نے اسے چپس کھلائے جس پر اس کی مان نے خوشی سے ہنسنا شروع کر دیا اور لڑکا اپنی ماں کو چپس کھاتا اور جوس پلاتا رہا پھر اپنی ماں کا منہ رومال سے صاف کیا۔
ڈاکٹر نے کہا، یہ آپ کی ماں ہے لیکن آپ کو نہیں جانتی؟ لڑکے نے جواب دیا ، بیشک وہ نہیں جانتی کہ میں اس کا بیٹا ہوں لیکن جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ میری ماں ہے۔
محمد عبداللہ نامی تیس سالہ نوجوان اپنی ماں کو لیڈی ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے لایا۔ لڑکے کی ماں چیک اپ کے لئے بیٹھنے کی بجائے اٹھ اٹھ کر جاتی ادھر ادھر اور بھاگنا چاہتی تھی۔ وہ بار بار اپنی چادر اتار پھنکتی لیکن اس کا بیٹا پیار کے ساتھ اسے بہلاتا اور اس کی چادر درست کر دیتا۔ اس دوران اس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ پر کاٹ بھی لیا اور اس کے چہرے پر مارا لیکن اس کا بیٹا مسکراتا رہا اور بہت پیار سے اپنی ماں کا دھیان رکھتا رہا اور ڈاکٹر کو مان کے مرض و تکلیف کی بابت بتاتا رہا۔
ڈاکٹر نے اس لڑکے سے پوچھا کہ یہ عورت کون ہے تو اس نے جواب دیا ، “میری ماں”۔ تب ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اس کی یہ حالت کب سے ہے؟ لڑکے نے جواب دیا کہ اس کی ماں کو اس کے بچپن میں اس کے باپ نے چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے ماں ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ لڑکے نے مزید بتایا
تم نے اک پل بھی نہ سوچا
میں زندگی بھر یہی سوچتا رہا
مخالفت جو کرتی ہے___ دُنیـا تــو کـرنـے دو
مُجھے جُگ جُگ جینے کی دعا ماں نے دی ہے!
محبت جیت ھوتی ھے"
مگر یہ ہارجاتی ھے۔
کبھی دلسوز لمحوں سے۔
کبھی بےکار رسموں سے۔
کبھی تقدیر والوں سے۔
کبھی مجبور قسموں سے.
"محبت جیت ھوتی ھے."
مگر یہ ہار جاتی ھے۔
کبھی یہ پھول جیسی ھے۔
کبھی یہ دھول جیسی ھے۔
کبھی یہ چاند جیسی ھے۔
کبھی یہ دھوپ جیسی ھے۔
کبھی مسرور دیتی ھے۔
کبھی روگ دیتی ھے۔
کسی کا چین بنتی ھے۔
کسی کو رول دیتی ھے۔
کبھی لے پار جاتی ھے۔
کبھی یہ مار جاتی ھے۔
"محبت جیت ھوتی ھے" مگر یہ ہارجاتی ھ
تیری تلاش میں میرا وجود ہی نہیں رہا
تباہ کر گٔی میری ہستی کو آرزو تیری
ہے کہاں پرشب وصال کا چاند
اپنے تارے کہاں پہ ملتے ہیں؟
آؤ اک ساتھ ڈوب کر دیکھیں
دو کنارے کہاں پہ ملتے ہیں؟
منایا نہیں گیا مجھ سے اس بار مرشدِ 🙏😓
اس کی ناراضگی میں آباد جو کوئی اور تھا 💔✌️ 🔥
بادشاہ جو ٹیک لگائے یہ سب کچھ سن رہا تھا، اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا۔ فیروز اپنے باغ کی طرف امن اور مطمئن ہو کر جاو۔ واللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیر تمھارے باغ آیا تھا لیکن وہ وہاں پر نہ تو کوئی اثر چھوڑ سکا ، نہ کوئی پتا توڑ سکا اور نہ ہی کوئی پھل کھا سکا وہ وہاں پر تھوڑی دیر رہا اور مایوس ہو کر لوٹ گیا اور خدا کی قسم میں نے کبھی تمھارے جیسے باغ کے گرد لگے مظبوط دیواریں نہیں دیکھیں۔
تو فیروز اپنے گھر لوٹ آیا اور اپنی بیوی کو بھی واپس لے لیا۔ نہ تو قاضی کو پتہ چلا اور نہ ہی کسی اور کو کہ ماجرا کیا تھا!!!
کیا خوب بہتر ہے اپنے اہل وعیال کے راز چھپانا تا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے
اپنے گھروں کے بھید کسی پر ظاہر نہ ہونے دو*
اللہ آپ لوگوں کی زندگی خوشیوں سے بھر دے آپکو، آپ کے اہل وعیال کو آپکے مال کو اپنے حفظ و امان میں رکھے.
End
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain