Damadam.pk
Zoq_Shab's posts | Damadam

Zoq_Shab's posts:

Zoq_Shab
 

فیروز نے کہا: قاضی صاحب جو باغ مجھے دیا گیا تھا وہ اس سے بہتر حالت میں نے انہیں واپس کیا ہے۔
قاضی نے پوچھا: کیا اس نے باغ تمھارے حوالے ویسی ہی حالت واپس کیا ہے جیسے پہلے تھا؟
انہوں نے کہا : ہاں ویسے ہی حالت میں واپس کیا ہے لیکن ہم اس سے باغ واپس کرنے کی وجہ پوچھنا چاہتے ہیں۔
قاضی: ہاں فیروز تم کیا کہنا چاہتے ہو اس بارے؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب میں نے باغ کسی بغض یا نفرت کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اسلیئے چھوڑا کہ ایک دن میں باغ میں آیا تو اس میں، میں نے شیر کے پنجوں کے نشان دیکھے تو مجھے خوف ہوا کہ شیر مجھے کھا جائے گا اسلیئے شیر کے اکرام کی وجہ سے میں نے باغ میں جانا بند کردیا۔
بادشاہ جو ٹیک لگائے یہ سب کچھ سن رہا تھا، اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا۔ فیروز اپنے باغ کی طرف امن اور مطمئن ہو کر جاو۔ واللہ اس میں کوئی شک نہیں

Zoq_Shab
 

پھر کچھ دن بعد اسکے سالے اس سے ملنے آئے اور اس سے پوچھا: فیروز آپ ہمیں ہماری بہن سے غصے اور ناراضگی کی وجہ بتائیں یا پھر ہم آپکو قاضی کے سامنے پیش کریں گے
تو اس نے کہا: اگر تم چاہو تو کر لو لیکن میرے ذمے اسکا ایسا کوئی حق باقی نہیں جو میں نےادا نہ کیا ہو۔
وہ لوگ اپنا کیس قاضی کے پاس لے گئے تو قاضی نے فیروز کو بلایا۔
قاضی اس وقت بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ لڑکی کے بھائیوں نے کہا: اللّٰه بادشاہ سلامت اور قاضی القضاہ کو قائم و دائم رکھے۔ قاضی صاحب ہم نے ایک سر سبز باغ، درخت پھلوں سے بھرے ہوئے اور ساتھ میں میٹھے پانی کا کنواں اس شخص کے حوالے میں دیا۔ تو اس شخص نے ہمارا باغ اجاڑ دیا سارے پھل کھا لیئے، درخت کاٹ لئیے اور کنویں کو خراب کر کے بند کردیا۔
قاضی فیروز کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ہاں تو لڑکے تم کیا کہتے ہو اس بارے میں؟
فیروز نے کہا:

Zoq_Shab
 

۔ فیروز کسی کو کچھ بتائے بغیر چپ چاپ گھر سے نکلا۔ خط لے کر وہ چل پڑا اور کام ختم کرنے کے بعد بادشاہ کے پاس واپس آیا تو بادشاہ نے انعام کے طور پر اسے سو ١٠٠ دینار دیئے۔ فیروز دینار لے کر بازار گیا اور عورتوں کے استعمال کے قیمتی کپڑے اور کچھ تحائف بھی خریدے گھر پہنچ کر بیوی کو سلام کیا اور کہا چلو تمہارے میکے چلتے ہیں۔
بیوی نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
کہا: بادشاہ نے انعام دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ پہن کر اپنے گھر والوں کو بھی دکھاٶ۔
بیوی : جیسے آپ چاہیں، بیوی تیار ہوئی اور اپنے والدین کے گھر اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہوئی داماد اور بیٹی اور انکے لائے ہوۓ تحائف کو دیکھ کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔
فیروز بیوی کو چھوڑ کر واپس آ گیا اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود نہ بیوی کا پوچھا اور نہ اسکو واپس بلایا۔
پھر کچھ دن بعد اسکے سالے اس سے ملنے آئے

Zoq_Shab
 

لیکن بزرگ کہہ گئے ہیں
شیر کو اگرچہ جتنی بھی تیز بھوک لگی ہو لیکن وہ مردار تو نہیں کھانا شروع کر دیتا
اور کہا: بادشاہ سلامت تم اس کٹورے میں پانی پینے آ گئے ہو جس میں تمہارے کتے نے پانی پیا ہے۔
بادشاہ اس عورت کی باتوں سے بڑا شرمسار ہوا اور اسکو چھوڑ کر واپس چلا گیا لیکن اپنے چپل وہیں پر بھول گیا ۔
یہ سب تو بادشاہ کی طرف سے ہوا۔
اب فیروز کو آدھے راستے میں یاد آیا کہ جو خط بادشاہ نے اسے دیا تھا وہ تو گھر پر ہی چھوڑ آیا ہے اس نے گھوڑے کو تیزی سے واپس موڑا اور اپنے گھر کی طرف لپکا۔ فیروز اپنے گھر پہنچا تو تکیے کے نیچے سے خط نکالتے وقت اسکی نظر پلنگ کے نیچے پڑے بادشاہ کے نعال (چپل) پر پڑی جو وہ جلدی میں بھول گیا تھا۔
فیروز کا سر چکرا کر رہے گیا اور وہ سمجھ گیا کہ بادشاہ نے اس کو سفر پر صرف اس لیئے بیھجا تاکہ وہ اپنا مطلب پورا کر سکے۔

Zoq_Shab
 

ادھر فیروز جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوا بادشاہ چپکے سے فیروز کے گھر پہنچا اور آہستہ سے فیروز کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
فیروز کی بیوی نےپوچھا کون ہے؟
بادشاہ نے کہا: میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
تواس نے دروازہ کھولا۔ بادشاہ اندر آ کر بیٹھ گیا۔
فیروز کی بیوی نے حیران ہو کر کہا: آج بادشاہ سلامت یہاں ہمارے غریب خانے میں؟
بادشاہ نے کہا : میں یہاں مہمان بن کر آیا ہوں۔
فیروز کی بیوی نے بادشاہ کا مطلب سمجھ کر کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپکے اس طرح آنے سے جس میں مجھے کوئی خیر نظر نہیں آ رہی۔
بادشاہ نے غصے میں کہا: اے لڑکی کیا کہہ رہی ہو تم ؟ شاید تم نے مجھے پہچانا نہیں میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
فیروز کی بیوی نے کہا: بادشاہ سلامت میں جانتی ہوں کہ آپ ہی بادشاہ ہیں لیکن بزرگ کہہ گئے ہیں

Zoq_Shab
 

ایک بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے چلا گیا۔ ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سوکھا رہی تھی۔
بادشاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا: کس کی بیوی ہے یہ؟
باندی نے کہا: بادشاہ سلامت یہ آپ کےغلام فیروز کی بیوی ہے۔
بادشاہ نیچے اترا ، بادشاہ پر اس عورت کے حسن وجمال کا سحر سا چھا گیا تھا۔
اس نے فیروز کو بلایا۔
فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا : فیروز ہمارا ایک کام ہے۔ ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آٶ اور اسکا جواب بھی ان سے لے آنا۔
فیروز: اس خط کو لے کر گھر واپس آ گیا خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا، سفر کا سامان تیار کیا، رات گھر میں گزاری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہو گیا اس بات سے لاعلم کہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا چال چلی ہے۔
ادھر فیروز جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوا

🍁Zoq_Shab🍁
Z  : 🍁Zoq_Shab🍁 - 
Zoq_Shab
 

*ایک چهوٹا بچہ اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک سیب لیے کهڑا تها۔ اس کے والد نے مسکراتے ہوئے کہا، "بیٹا ایک سیب مجھے دے دو۔۔۔ !" اتنا سنتے ہی اس بچے نے ایک سیب کو اپنے دانتوں سے کاٹ لیا، اس سے پہلے کہ اُسکا باپ کچھ بول پاتا، اس نے دوسرا سیب بهی اپنے دانتوں سے کاٹ لیا۔ اپنے بیٹے کی اس حرکت پر وہ شخص غصے سے سیخ پاء ہو گیا، اور اُسکے چہرے سے اب مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی، قریب تھا کہ وہ اُٹھ کر اُسے سزا دیتا۔**تب ہی بیٹے نے اپنے ننهے ہاتھ کو آگئے بڑهاتے ہوئے کہا، "ابو یہ لو یہ والا زیادہ میٹھا ہے۔۔۔ !"**ہمارے اندر برداشت کا مادہ بہت کم ہے، شاید اِسی وجہ سے اکثر ہم پوری بات اور معاملات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Zoq_Shab
 

اتنی دلکش پہلےکہاں تھی یہ زندگی🧡🔥
ہم نے چائے کو ☕ جب تک چاہا نہ تھا

🍁Zoq_Shab🍁
Z  : 🍁Zoq_Shab🍁 - 
Zoq_Shab
 

مسکراتے ضرور ہیں
لیکن ____ زیرِ لب آہ بھرتے جاتے ہیں ....🔥

Zoq_Shab
 

ٹوٹنے کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہو گئی
کبھی کبھی ٹوٹنے سے زندگی کا آغاز ہوتا ہے

Zoq_Shab
 

نہ چھیڑ قصہ محبت بڑی لمبی کہانی ہے...❤💔
زمانے سے نہیں ہارے کسی کی بات مانی ہے.....💔❤

🍁Zoq_Shab🍁
Z  🔥 : 🍁Zoq_Shab🍁 - 
Zoq_Shab
 

حل نہیں ہوتا خود سے ہی..
ایسا عجیب مسئلہ ہوں میں

Zoq_Shab
 

جو رشتہ اپکو بار بار آنسو دینے لگے تو سمجھ لے کہ اس نے اپنی مدت پوری کر لی

🍁Zoq_Shab🍁
Z  : 🍁Zoq_Shab🍁 - 
Zoq_Shab
 

اِتنی دُوری پہ بھی قُربت کا یہ عالم ! توبہ
پاس ہی دل کے کوئی بول رہا ہو جیسے

Zoq_Shab
 

لوگ مجھے پوچھتے ہیں تم نے اس میں کیا دیکھا
💓💓
میں نے کہا جب اسے دیکھا تو اس کے بعد کچھ نہیں دیکھا___!! 💓💓

Zoq_Shab
 

انا کے موڑ پہ بچھڑے تو ہم سفر نہ ملے🥀 💯
ہم ایک شہر میں رہ کر بھی عمر بھر نہ ملے 😓