میں نے کہا بھائی یہ چلغوزے کا کیا ریٹ ہے ۔ کہنے لگا : 8000 روپے کلو میں نے اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نہیں تھا ۔ میں نے کہا : دس روپے کے دے دو ۔۔۔ اس نے میری طرف غصے سے دیکھا اور مگر بولا کچھ نا ۔ پھر ایک چلغوزہ اٹھا کر مجھے پکڑانے لگا ۔ میں نے کہا : شاپر میں ڈال دو ۔۔۔ اس نے اب کی بار کھا جانے والی نظروں سے دیکھا مگر غصہ دکھایا نہیں۔ پھر شاپر دیکر بولا : ہور کجھ ؟؟؟ میں نے کہا : شاپر ڈبل کردو ۔۔۔ وہ اپنی دوکان چھوڑ کر آج تک مجھے ڈھونڈ رہا ہے
دشمنِ جاں کو مات کر لیجے چار دن احتیاط کر لیجے اپنے گھر کے حسیں مکینوں کو اپنی کل کائنات کر لیجے رحم خود پر اگر نہیں آتا اپنے بچوں کے ساتھ کر لیجے یہ کوئی قید ہے کہ گھر بیٹھے جس سے جی چاہے بات کر لیجے دل ملا لیجئے اجازت ہے دور لیکن یہ ہاتھ کر لیجے فکر اپنی ہر ایک سے پہلے کام ہے واہیات ، کر لیجے آج موقع ہے مال و دولت کو اپنی راہِ نجات کر لیجے یہ حفاظت بھی اک عبادت ہے جس قدر ہے بساط کر لیجے