’’ہم سب کے اندر اداسی ہے ‘ ایڈم ۔تنہائی کا ایک خلا ء جو.....جو مغرب ڈھلتے ہی ہمیں نگلنے کو منہ کھولے بیٹھا ہوتا ہے ۔ سارے دن کے کام کاج کے بعد.....اس وقت ہمیں ’انسانوں‘ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ اداسی کا وقت ہوتا ہے ۔ خوف اور تنہائی کا ۔ایک شخص اس وقت کو گزارنے کے لیے ہمیں کافی نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے اردگرد بہت سے دوست اور رشتے اکٹھے کرنے چاہئیں تاکہ وہ ہر شام ہماری مدد کیا کریں۔‘‘
’’ہاں۔اسی لیے ہر شام کو ہم اپنی دنیا میں اپنے اپنے سیل فون لے کر سب سے کٹ کے بیٹھ جاتے تھے۔لوگ کہتے ہیں ‘ ہم اپنے فونز کے عادی ہو گئے ہیں۔ مگر اب مجھے لگتا ہے چے تالیہ کہ ہم ان لوگوں کے عادی ہو جاتے ہیں جو فون کے ذریعے ہم سے جڑے ہوتے ہیں۔‘‘
#Haalim_Novel
صبر ہر بار اختیار کیا
ہم سے ہوتا نہیں ہزار کیا
عادتاً تم نے کر دیئے وعدے
عادتاً ہم نے اعتبار کیا
ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں
رک کر اپنا ہی انتظار کیا
پھر نہ مانگیں گے زندگی یارب
یہ گنہ ہم نے ایک بار کیا
@ Zoq
روٹھ جانے کی صدی اب گزر گئی ،
اب نظر انداز کرنے کا زمانہ ہے۔🥀😊
ہم نے اوّل سے پڑھی ہے یہ کتاب آخر تک !
ہم سے پُوچھے کوئی ہوتی ہے محبّت کیسی
ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا
دشتِ وحشت میں بھی آداب لئے پھرتے ہیں
کڑک چائے اور خالص محبت☕
کم ظرفوں کے لیے نہیں ہوتی💯
Us K Sath Rehtay Rehtay Humain Chahat Si Ho Gaye,
Us se Baat Kertay Kertay Humain Aadat Si Ho Gaye.
Aek pal Bhi Na Milay To Najanay Bechaini Si Rehti Hay,
Dosti Nibhatay Nibhatay Humain Mohabbat Si Ho Gaye.
راس آ ہی گیا ترک تعلق اسے آخر
آنکھوں میں وہ پہلی سی ندامت نہیں رکھتا...
نا جانے کیسے سہولت سے سہہ لیا اُس نے
اُسے تو ہجر کی باتیں عذاب لگتی تھیں.
وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا،
اب وہ روتا ہے، چپ نہیں ہوتا
وہ مُجھ کو سونپ گیا گردِشیں زمانے کی
مِلا تھا کوئی سِتارہ شناس...
تو مِصر کے بازار کا بِچھڑا ہوا یُوسف
دِل تیرے بِنا مانندِ یعقُوب رہا...
چھوٹے چھوٹے الفاظ انسان کو غلام بنا دیتے ہیں جیسے کہ ؟
😋قبول ہے 😉قبول ہے 😜قبول ہے 😂 😝😝😝😝
شبِ انتظار کی کش مکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہو ئی
کبھی اِک چراغ جلا دیا کبھی اِک چراغ بُجھا دیا
تنگ نہیں کرتے ہم انہیں آج کل
یہ بات بھی انہیں تنگ کرتی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain