محبت کسی ایسے شخص کی تلاش نہیں کرتی کہ جس کے ساتھ رہا جائے... محبت تو ایسے شخص کو تلاش کرتی ہے کہ جس کے بغیر نہ رہا جائے۔۔۔ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے جی زندہ رہے تو پھر ملیں گے... لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے مل کر لگتا "ملتے رہے تو زندہ رہیں گے"
وہ دریچے سے جھانکتی وہ لڑکی عجیب دکھ سے بھری ہوئی ہے
کہ اس کے آنگن میں پھول پر ایک نیلی تتلی مری ہوئی ہے
کبھی اذانوں میں کھوئی کھوئی کبھی نمازوں میں روئی روئی
وہ ایسے دنیا کو دیکھتی ہے کہ جیسے اس سے ڈری ہوئی ہے
درود سے مہکی مہکی سانسیں وظیفہ پڑھتی ہوئی وہ آنکھیں
کہ ایک شمع امید ان میں کئی برس سے دھری ہوئی ہے
بڑے زمانوں کے بعد برسی ہیں میری آنکھیں کسی کی خاطر
بڑے زمانوں کے بعد دل کی زمین پھر سے ہری ہوئی ہے۔۔۔
کچه لوگ میری دنیا میں خوشبو کی طرح ہیں
روز محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
تمہاری بات نہیں ـ ـ تم تو چارہ گر تھے مــــگر
یہ جشنِ فتح ــ پس قتلِ عام کس کا ہے
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ ـ ـ اُنگلیوں کے نِشاں
ہمیں خبر ہے عزیزو! یہ کام کِس کا ہے؟
مرشد سائیاں کیا بتلاؤں
دل سے سوگ نہیں جاتا,,,,,,,
اس سے بچھڑے عمریں بیتیں
لیکن روگ نہیں جاتا,,,,,,,,,
-" کبھی کبھار مجھے یہ زندگی اتنی بوجھ لگتی کہ دل کرتا اُتار پھینکوں یہ سارا بوجھ... 🖤
اکثر سمجھ نہیں آتی کہ میرے ہونے سے دکھ ہیں یا دکھوں کے ہونے سے ہی میں ہوں، سب کچھ میسر ہونے کے باوجود اداسی اندر سے کھائے جا رہی...💯
━━━━━━━━━━━━━━
♡ ❍ ⎙ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
رنجش ہی سہی، دل ہی دُکھانے کے لیئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ
تُو بھی تو کبھی مُجھ کو منانے کے لیے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی، پھر بھی کبھی تو
رسم و رہِ دنیا ہی نِبھانے کے لیے آ
کس کس کو بتائیں گے جُدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
اِک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں! مجھ کو رُلانے کے لیے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں اُمیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بُجھانے کے لیے آ
کـچھ ایسـا ہـو یـہ شــام ڈھلـے
کوئی لے کے مجھکو ساتھ چلے،
کوئی بیٹھـے میـرے پہـلو میں
میـرے ہـاتھ پہ اپنا ہاتھ دھرے
اور پونچھ کے آنسو آنکھوں سے
وہ دھیــــرے سـے یـہ بـات کہــے،
یـــوں تنہـــا چلنــا ٹھیــک نہیــں
چلو ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں
💖💖
وہ درجن بھر مہینوں سے
سدا ممتاز لگتا ہے
” نومبر “ کس لئے آخر _______؟؟
ہمیشہ خاص لگتا ہے
بہت سہمی ھوئی صبحیں
اداسی سے بھری شامیں
دوپہریں روئی روئی سی
وہ راتیں کھوئی کھوئی سی _____
وہ کم روشن اجالوں کا
کبھی گذرے حوالوں کا
کبھی مشکل سوالوں کا
بچھڑ جانے کی مایوسی
ملن کی آس لگتا ہے
” نومبر “ اس لیے شاید
ہمیشہ خاص لگتا ہے _____
کتنا مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا
دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارا کرنا
زندگی ہم یہ آسان بھی ہو سکتی تھی
سیکھ لیتے جو کسی درد کا چارہ کرنا
کہاں جاتے ہو ابھی ساتھ گزارو کچھ دن
ہم پہ مشکل کوئی آئے تو کنارہ کرنا
کتنا مشکل ہے جلانا کسی رستے میں چراغ
کتنا آسان ہے ہواؤں کو اشارہ کر آ زندگی ہم تو چلو مان کے سہ بھی گئے
ایسا برتاؤ کسی سے نہ دوبارہ کرنا
میں یہاں محبتتں کرنے نہیں آئی ہوں
میں فقط شاعری سناؤں گی چلی جاؤں گی
ایک انپڑھ لیکن باپردہ باحیا عورت اُس پی ایچ ڈی عورت سے کہیں بہتر ہے، جس کے پاس ڈگری تو ہے لیکن پردہ اور حیا نہیں 💯
ہزار دیپ بھی جل کر یہاں اندھیرا ہے
یہ زندگی کسی اندھے کا خواب لگتی ہے
کبھی کبھی تو میں تھک کر بکھرنے لگتا ہوں
کبھی کبھی تو محبت عذاب لگتی ہے
میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے
کہ عمر بھر کے ساتھ کو وہ بد تر از ہوس کہے
شجر حجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گِل رہیں
نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں
محبتوں کی وسعتیں ہمارے دست و پا میں ہیں
بس ایک در سے نسبتیں سگانِ با وفا میں ہیں
میں کوئی پینٹنگ نہیں کہ اک فریم میں رہوں
وہی جو من کا میت ہو اُسی کے پریم میں رہوں
تمہاری سوچ جو بھی ہو میں اس مزاج کی نہیں
مجھے وفا سے بیر ہے یہ بات آج کی نہیں
نہ اُس کو مجھ پہ مان تھا نہ مجھ کو اُس پہ زعم ہی
جب عہد ہی کوئی نہ ہو تو کیا غمِ شکستگی
سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل لیا
وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا
بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اُس کی دوستی
اب اُس کی یاد رات دن؟ نہیں! مگر کبھی کبھی
بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی
نہ یہ کہ حُسن تام ہو نہ دیکھنے میں عام سی
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
کوئی بھی رُت ہو اُس کی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی
نہ مدّتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہو
نہ رشتۂ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذنِ عام ہو
نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے
نہ اتنی بے تکلّفی کہ آئینہ حیا کرے
نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو
نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو
کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سُخن
کبھی تو کشتِ زعفراں کبھی اُداسیوں کا بن
سنا ہے ایک عمر ہے معاملاتِ دل کی بھی
وصالِ جاں فزا تو کیا فراقِ جاں گسل کی بھی
سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی
میں عشق کو امر کہوں وہ میری ضد سے چڑ گئی
کہانی سنو زبانی سنو مجھے پیار ہوا تھا اقرار ہوا تھا
دیوانہ ہوا مستانہ ہوا تیری چاہت میں کتنا فسانہ ہوا
ترے جانے کی خشبو ترے جانے کا منظر تجھے ملنا پڑے گا اب زمانہ ہوا صدائیں سنو جفایں سنو مجھے پیار ہوا تھا اقرار ہوا تھا 😢
کیسے بُھولوں میں وہ آواز جسے سُنتے ہی؟
بُھوک مٹتی تھی سماعت کو سُکُوں ملتا تھا!
خود کشی حل نہیں اذیت کا
اور کوئی حل نکال سکتے ھو؟
میں بتاتا ھوں اپنے سارے دکھ
تم بتاؤ سنبھال سکتے ھو !!!
وہ مُجھے غور سے تکتی ہے اور کہتی ہے
تو میرے ساتھ بھی تنہا دکھائی دیتا ہے
اُنگلیوں کی پوروں پہ
رابطے ميسر ہیں
پھر بھی گر یہ دوری ہے
تو جاننا ضروری ہے
کہ فاصلے زماں کے ہیں
یا دِلوں میں دوری ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain