وہ روشنیوں کا باسی اندھیروں کا اسے کیا معلوم رگ جاں کو کیسے کاٹتا ہے کوئی روگ اسے کیا معلوم میں نے چاہا ہی نہیں کہ اسے پتا دوں اپنی بے بسی کا لیکن یہ درد کا راستہ بھی کتنا کٹھن اسے کیا معلوم
تمہارے بعد پرندوں نے گاؤں چھوڑ دیا تمہارے بعد درختوں پر گھونسلے نا رہے تو آخری تھا جس نے بستی میں عشق کیا تمہارے بعد لوگوں میں حوصلے نا رہے
سنو دسمبر لوٹ آیا ہے تم بھی لوٹ آؤ نا
جو پھول شاخ سے ٹوٹ جائے اسے دسمبر کے آنے جانے سے مزید کوئی فرق نہیں پڑتا
خوشیاں بھی عارضی ہیں اور دکھ بھی مستقل نہیں رہتے
ہم کو منظور نہیں پھر سے بچھڑنے کا عذاب اس لیے تجھ سے ملاقات نہیں چاہتے ہیں کب تلک در پہ کھڑے رہنا ہے ان سے پوچھو... کیا وہ محشر کا تماشا بھی یہیں چاہتے ہیں؟
مدّت سے خامشی ہے، چلو آج مر چلیں۔۔ دو چار دن تو گھر میں ذرا انجمن رہے۔۔! ۔۔۔
اب تو لوگ پوچھتے ہیں کیا حال بنایا ہوا ہے یہ کس کا ستایا ہوا ہے ہوش اپنا گنوا بیٹھے ہو کیا روگ لگا بیٹھے ہو
مرشد ہم برباد لوگ ہیں ہم سے کنارا کیجیے
زِندگی تیرے راس آنے تک ہم تُجھے گزار چُکے ہوں گے اعجاؔز
جب ہم کسی شخص کو یہ بتادیں کہ ہم اسکے ساتھ ہر حال میں رہ سکتے ہیں تو وہ شخص پھر ہمیں ہر حال سے گزارتا ہے ۔
دل و دماغ الجھے ہوں، تو کہیں بھی چلے جاؤ سُکون نہیں ملتا !
تجھ کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا پر میں نے جینا چھوڑ دیا ہے دوست عاصم نثار
ہم تو کہہ دیں گے کہ ہم ٹھیک ہیں لیکن کون سمجھے گا یہاں ٹھیک کا مطلب آخر🖤
اور کیا عالمِ وارفتگی ہو؟ ہم غمِ دنیا سے گھبرائے ہوئے جب بھی روتے ہیں، تمہیں ڈھونڈتے ہیں
🍂تم مجھے ڈھونڈتے ہو ، خیر تو ہے ۔۔۔
ایسے دیتی ہے محبت میں اذیت دنیا ۔!!!!!!!!!! جیسے ململ کو، کوئی کانٹوں پہ رکھ کر کھینچے!!