ہر ایک ہاتھ سے مُردوں میں جاں نہیں پڑتی
ہر ایک ہاتھ میں فیض___یسوع نہیں ہوتا
لطیف دشت علاقہ ہے___ خود شناسی کا
زیادہ بھیڑ میں خود سے رجوع نہیں ہوتا__!
دوست کہتے ہیں بھیجھو تصویریں کچھ أداس سی
کہ تم تو رکھتے ہو ایک فرقہ أداس لوگوں کا___🖤
وہ جن کے قہقہوں سے لرزتی تھی زندگی
کہتے ہیں ان کی آنکھ بڑی سوگوار تھی
بات کر کے مکر گیا کوئی
یونہی دل سے اتر گیا کوئی
وہ جو بچھڑا تو یوں لگا مجھے
مرے اندر ہی مر گیا کوئی 🥺🖤🔥
کہانی ٹھیک بنتی ہے نظارے ٹھیک ملتے ہیں
عموماً وقت اچھا ہو تو سارے ٹھیک ملتے ہیں
ہمیں تو جو ملا اپنا، وہی ڈسنے میں ماہر تھا
نجانے کیسے لوگوں کو سہارے ٹھیک ملتے ہیں
ہم سے پوچھو کہ محبت میں خسارہ کیا ہے.!
جان لے کر بھی کوئی پوچھے کہ ہارا کیا ہے..!!
ہاۓ _ اک عمر کٹی جن کی وفاداری میں.!
آج وہ پوچھتے ہیں، ہم نے سنوارا کیا ہے..!!
ہم سے پوچھو کہ محبت میں خسارہ کیا ہے.!
جان لے کر بھی کوئی پوچھے کہ ہارا کیا ہے..!!
ہاۓ _ اک عمر کٹی جن کی وفاداری میں.!
آج وہ پوچھتے ہیں، ہم نے سنوارا کیا ہے..!!
ختم تھا ہم پہ محبت کا تماشہ گویا
روح اور جسم کو ہر روز جدا کرتے ہیں
زندگی ہم سے تیرے ناز اٹھائے نہ گئے
سانس لینے کی فقط رسم اداکرتے ہیں۔۔💔
لگی ہوئی ہے کوئی بد دعا تعاقب میں !
سکون شکل دکھاتا ہے ___ لوٹ جاتا ہے
خود بھی کم نہیں میں اپنی تباہی کے لیے
دوستوں سے مجھے امداد بھی آجاتی ہے
رونا ہوتا ہے کسی اور حوالے سے مجھے
اور ایسے میں تیری یاد بھی آجاتی ہے
شاید کے اب کی بار وضاحت نہ پیش ہو
شاید کے اب کی بار نہ آؤں میں لوٹ کر
میں مانتا ہوں آزمائش ہے یارب
مگر میں ہمت کھونے لگا ہوں ...
گر آ سکو تو آؤ کبھی مل کے طے ہی کر لیں
یہ مسائلے محبت یہ معاملے وفا کے
چشم نم ڈھونڈ رھی ھیں تم کو
کاش کے دنیا میں تم ھی تم ھوتے
آنکھ صحرا نہ رہی روح بھی پیاسی نہ رہی
اس قدر ٹوٹ کے روئے کہ اداسی نہ رہی
کیا کہا, مر گئی تنہائی بھی دکھ سہتے ہوئے
یعنی ہم ہجر کے ماروں کی وہ داسی، نہ رہی
محبت کے صحیفوں میں جہاں تحریف ہوتی ہے
وہاں پھر ہجر کی____آیات کی تصنیف ہوتی ہے
محبت تو نہیں _____ لیکن انوکھا ربط ہے کوئی
مجھے اک شخص_کی تکلیف سے تکلیف ہوتی ہے
ہم نے عشق میں خود کو کھویا ہے
یہ وفا کی باتیں ہمیں نا سناؤ
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں
یہ جو میں ہوں ذرا سی باقی ہوں
وہ جو تم تھے مر گئے مجھ میں
پرچھائیوں کے شہر کی تنہائیاں نہ پوچھ
اپنا شریکِ غم کوئی اپنے سوا نہ تھا
یوں دیکھتی ہے گمشدہ لمحوں کے موڑ سے
اس زندگی سے جیسے کوئی واسطہ نہ تھا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا, کب تماشا ختم ہو گا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain