کیا تم نے کبھی خود کو خط لکھا؟ ایک معذرت بھرا خط ان خواہشات کے لیئے جو مسخ ہو گئیں اُن خوابوں کے نام جو ادھورے رہ گئے کیا تم نے کبھی خود سے معذرت کی کہ ایک عرصے سے تم کبھی کُھل کر بے وجہ مسکرا نہ سکے ؟ 🙂💯
کَرب کے نصابوں میں قہقہے نہیں چلتے مستیاں نہیں ہوتیں آنسوؤں کی بیٹھک میں چپ کا ماتم رہتا ہے تالیاں نہیں بجتیں زندگی کی بستی کی منطقیں نرالی ہیں آنکھ تو لبالب ہے پر یہ ہاتھ خالی ہیں!!
وہ مجھ کو لکھتا تھا۔۔ اے ہمدم۔۔! جدائیوں کی اداس رُت میں، میں لوٹ آیا تو قربتوں کے، حسین موسم سے، دل کا آنگن سنوار دونگا۔۔ بہار اس میں اتار دونگا۔۔ میں لے آؤنگا ساتھ اپنے، محبتوں کے گلاب موسم، وفا میں ڈوبے سیماب لمحے، تمہاری خاطر۔۔۔ مگر۔۔۔۔ مگر وہ آیا، تو عذر لایا۔۔ جواز لایا۔۔ وضاحتوں کے محاذ لایا۔۔ میں جن دکھوں کے تھا انتہا پر، وہ پھر سے اُن کا آغاز لایا
ستمبر بھی گزر رہا ہے!! راتیں لمبی ہوتی جارہی ہیں اور ہوا میں خنکی بڑھ رہی ہیں!! مُجھے بہت پسند ہے...!! سردی کی پہلی دستک.... سرسراتی ٹھنڈی ہواٸیں..... اُداسی میں ڈوبی شامیں......!!! پتوں کا گرنا.....؟؟ سورج کی آخری جھلک....!! اور.......!!!!! رات کی تاریکی میں بادلوں میں چھپا چاند....🌙 گھر والوں کی ڈانٹ کو نظر انداز کر کے گھنٹوں چھت پر بیٹھنا!!! دھندلے آسمان میں اُس تارے کو ڈھونڈنا جو میرے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا ہے.....!!! ہاں مُجھے بہت پسند ہے........ کُھلی آنکھوں سےخواب د یکھنا!🌹🍁🤍