گر آ سکو تو آؤ کبھی مل کے طے ہی کر لیں
یہ مسائلے محبت یہ معاملے وفا کے
چشم نم ڈھونڈ رھی ھیں تم کو
کاش کے دنیا میں تم ھی تم ھوتے
آنکھ صحرا نہ رہی روح بھی پیاسی نہ رہی
اس قدر ٹوٹ کے روئے کہ اداسی نہ رہی
کیا کہا, مر گئی تنہائی بھی دکھ سہتے ہوئے
یعنی ہم ہجر کے ماروں کی وہ داسی، نہ رہی
محبت کے صحیفوں میں جہاں تحریف ہوتی ہے
وہاں پھر ہجر کی____آیات کی تصنیف ہوتی ہے
محبت تو نہیں _____ لیکن انوکھا ربط ہے کوئی
مجھے اک شخص_کی تکلیف سے تکلیف ہوتی ہے
ہم نے عشق میں خود کو کھویا ہے
یہ وفا کی باتیں ہمیں نا سناؤ
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں
یہ جو میں ہوں ذرا سی باقی ہوں
وہ جو تم تھے مر گئے مجھ میں
پرچھائیوں کے شہر کی تنہائیاں نہ پوچھ
اپنا شریکِ غم کوئی اپنے سوا نہ تھا
یوں دیکھتی ہے گمشدہ لمحوں کے موڑ سے
اس زندگی سے جیسے کوئی واسطہ نہ تھا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا, کب تماشا ختم ہو گا
کہانی آپ اُلجھی ہے کہ اُلجھائی گئی ہے
یہ عُقدَہ تَب کُھلے گا جَب تَماشا خَتم ہوگا۔۔۔!
صدا لگائی تو پرسان حال کوئی نہ تھا
گمان تھا ک ہر اک شخص ہمنوا ہوگا،،،،
دل کو اسی گُمان میں رکھا ہے عمر بھر !
اس امتحاں کے بعد ــــ کوئ امتحاں نہیں
🙃💔
مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی
محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی
تحمّل اے محبت ! ہجر پتھریلا علاقہ ہے
تجھے اِس راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی
__🖤
ﺗُﻮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﭽﺘﺎ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗُﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﮍﺍ ﻟﮯ ﺍﭘﻨﺎ
ﻧﺒﺾ ﭼﻠﺘﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﭽﺘﺎ ﮨﮯ
چلو اب روٹھنا چھوڑو،
چلو رنجش بھلا دو نہ
محبت تم بھی کرتے ہو
محبت ہم بھی کرتے ہیں
تو پھر یہ روٹھنا کیسا ؟؟؟
تو پھر یہ رنجشیں کیسی ؟؟؟
تمہارے پاس سب کچھ ہے
یہ دولت ہے ، یہ شہرت ہے
بہت چاہنے والے ہیں ___!!
تمہارا مان رکھنے والے ہیں ،،
مگر میرے دامن میں میری جان
بس صرف تمہاری محبت ہے ،
مجھے بس اتنا کہنا ہے،
تمہارے پاس رہنا ہے ❤️
تمہارے ساتھ رہنا ہے ❤️
ایک عمر ہوتی ہے یار ہر تعلق کی
پھول کو شاخ سے ایک دن توڑنا تو پڑتا ہے
وہ ٹھیک کہتے تھے کہ آپ میری دنیا ہیں
اور دنیا کو ایک دن چھوڑنا تو پڑتا ہے
میں خود کو تیرا سہارا سمجھتا ہوں
میں تیرے دکھ کو خدارا سمجھتا ہوں
یہ جان کر بھی کہ میرا نہیں ہے تو
میں خود کو اب بھی تمہارا سمجھتا ہوں
یہ میری نادانی ہے کہ ڈوب کر
بھنور کو اب بھی کنارا سمجھتا ہوں
مثال دیتا ہے ہجرت کی روز تو
میں ناداں تیرا اشارا سمجھتا ہوں
یہ بات بھی تو نہیں ہے زمانے کی
میں خود بھی خود کو ہارا سمجھتا ہوں
عاصم نثار
بالوں میں آ گئی ہے سفیدی اور ایک تُو
ایسا بسا ہے دل میں __ زرا گھٹ نہیں رہا💔
محنت سے جی چرایا نہیں کرتے
جو خود کو خود ہرایا نہیں کرتے
اپنے سوا امید کسی سے بھی
کوئی بھی جو لگایا نہیں کرتے
ملتی ہیں منزلیں انہی کو جو لوگ
رستے کا خوف کھایا نہیں کرتے
عاصم نثار
وہ تو ہے ہی بہت نادان اسے نہیں پتا
فائدہ کیا ہے کیا نقصان اسے نہیں پتا
وہ جو ہجرت پر آمادہ ہے اسے سمجھاؤ
رو رو ہو جاؤں گا میں ہلکان اسے نہیں پتا
گاؤں میں اسی کے دم سے ہیں رونقیں ورنہ
پھر یہ گلی بھی ہو گی ویران اسے نہیں پتا
نکلا ہے نئی منزلوں کی وہ تلاش میں خوش ہے
چاہتوں کا یہاں ہے فقدان اسے نہیں پتا
ہجر کی وحشت سے ابھی وہ بے خبر ہے عاصم
درد بھی لے لیتے ہیں جان اسے نہیں پتا
عاصم نثار
جولوگ میسر ہیں، وہ لوگ غنیمت ہیں
کب کون بچھڑ جائے، اندازہ نہیں ہوتا
آؤگے تو سمجھو گے، اِس دل کی بناوٹ میں
دیوار تو ہوتی ہے.... دروازہ نہیں ہوتا 💕
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain