وہ ایک شخص جو میرے کہانی نہیں سمجھا
میرے الفاظ میرے زبانی نہیں سمجھا
اور اسے گلہ ہے کہ میں بولتا بہت ہوں
شاید وہ میرے اندر کی ویرانی نہیں سمجھا
اسے کہنا
کہ راتوں کی اداسی میں
تمہاری یاد کا جگنو
ابھی تک ٹمٹما تا ہے۔۔۔۔۔
اسے کہنا
کہ آنکھوں کی اداسی
روز وشب کے اس تسلسل میں
اب بھی چیخ اٹھتی ہے۔۔۔۔۔
اسے کہنا
چمکتے آسماں پر اب بھی
اک.ہالہ سا بنتا ہے۔۔۔۔۔۔
*اسے کہنا*
*مجھے وہ اب بھی*
*اکثر یاد آتا ہے*..۔۔
رنجشیں ہم سے بجا لاجِ شناسائی رکھ
تھوڑی تنقید سہی , تھوڑی پذیرائی رکھ
ہم سے بیمار کو ملتی ہے توجہ سے شفا
جلتے ماتھے پہ کبھی دستِ مسیحائی رکھ
یہ آٹھ پہروں شمار کرنا
کہ سات رنگوں کے اس نگر میں
جہان چھ ہیں
حواس، خمسہ، چہار، موسم
زماں، ثلاثہ، جہاں دو ہیں
خدائے واحد !
یہ ترے بےانت وسعتوں کے
سفر پہ نکلے ہوئے مسافر
عجیب گنتی میں کھو گئے ہیں
جانِ من❤
سزائیں اور بھی ہو سکتی تھیں
مگراُس نے ترکِ تعلق پہ اکتفا کیا۔۔🙂🔥💔
اگر مَیں آدھا اَدھورا ہی لوٹ آؤں تو
نگاہِ ناز ! وہی اہتمام ھو گا نا ؟
بس ایک بار محبت سے دیکھنا ھے اِدھر
بتاؤ ! تم سے یہ چھوٹا سا کام ھو گا نا ؟
اتباف ابرک
_🖤🌼
ملنے کا من نہیں تو بہانا نیا تراش
اب تو مکالمے بھی تیرے یاد ہو گئے
بیزار، بد مزاج ، انا دار ، بد لحاظ۔۔۔۔۔۔
ایسے نہیں تھے جیسے تیرے بعد ہو گئے
ہم نہ باز آئیں گے محبت سے
جان جائے گی اور کیا ہوگا.
تمھارے واسطے دنیا بنائی ہے اس نے!!🥀
ہم ایسے لوگ تو یونہی بنا دیے گئے ہیں_🖤
#ساقئ ___🍁
خراب حالوں میں غم خوار باتیں کرتے ہیں
کیا وقت ہے کہ مرے یار باتیں کرتے ہیں
مرے خلاف جو کہنا ہے میرے منہ پہ کہیں
یہ لوگ کیوں پسِ دیوار باتیں کرتے ہیں
کیا یہ زرد رنگت , سیاہ حلقے نہیں بتلاتے ؟
تم جو بات بے بات پوچھتے ہو ، ہجر کیا ہے ؟
لکھ کے دیتا ہوں تمہیں ردِ اَنا کا تعویذ
پھر کبھی ضِد پے وہ اَڑ جائے، تو پیسے واپس
میں نے کاٹا ہے میاں، بائیس برس کا چِلّا
وہ تیرے پاؤں نا پڑ جائے، تو پیسے واپس
نا جانے کون سے جملے پہ آپ چونکے ہیں؟
ہمارا قصہ تو سارا لہو لہو ٹھہرا!
جو اپنی آئی پہ آؤں،تو چھوڑ دوں تجھ کو!
میں ضد میں اپنا نہیں،اور تُو تو تُو ٹھہرا!
میں اِک تجسُس کے سِوا کچھ بھی نہیں
آپ پرکھیں گے جانیں گے اُکتا جائیں گے..!!
پھر تمھیں فون کی اجازت ہے
یاد آؤں اگر اداسی میں
تمہارا عشق مجھے دشت میں لے آیا ہے
تمہارے ہجر کی وحشی دھمال باقی ہے
عجیب موت ملی ہے مجھے مروت میں
میں اس پہ مر مٹا ہوں انتقال باقی ہے
دعاٸیں یاد تھیں جتنی
وہ ساری پھونک لیں خود پر
وظاٸف جو بھی آتے تھے
وہ سارے پڑھ لٸے میں نے
مگر پھر بھی میرے دل میں
سکوں داخل نہیں ہوتا
تمھیں ہجرت ہی کرنی تھی
تو کچھ میرا بھی کر جاتے
کسی کو توڑ کر !! سنتے ہیں
کچھ حاصل نہیں ہوتا
کسی کے چھوڑ جانے سے
کسی کی جان جاۓ تو
مجھے فتوی یہ لینا ہے
کیا وہ قاتل نہیں ہوتا؟؟
عجب نہیں جو تمھیں روشنی سنائی دے
بس اک چراغ سے اذن ِ کلام لینا ہے
میں عشق دوسرا کرنے کے حق میں ہوں تو نہیں
مگر ، کسی سے مجھے انتقام لینا ہے🖤
اُسے کہنا
جہاں ہم نے بچھڑتے وقت لکھا تھا
کوئی رُت ہو، کوئی موسم
محبت مر نہیں سکتی
وہاں پر لکھ گیا کوئی
تعلق خواہ کیسا ہو، بالآخر ٹوٹ جاتا ہے
طبیعت بھر ہی جاتی ہے
کوئی مانے نہ مانے، پر محبّت مر ہی جاتی ہے
🥀🥀🥀
وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا
ہر ایک کا تکیہ کلام آنکھیں تھیں 🖤
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain