ایک درد سے دو چار رہا ہوں خود سے بھی تو میں بےزار رہا ہوں تو نے دیکھا نہیں مجھ کو پلٹ کر میں بھی تیرا طرف دار رہا ہوں ایسے دیکھ نہ حیرت سے تو مجھ کو تیرے بعد میں بیمار رہا ہوں عاصم نثار
ایک تصور ہے جو تصویر بھی ہوسکتا ہے ........ عشق تو پاؤں کی زنجیر بھی ہوسکتا ہے ....... یاد رکھ دل ہے اگر ٹوٹ گیا تو ٹوٹ گیا ......... گھر نہیـــــں ہے جو دوبارہ تعمیر بھی ہوسکتا ہے .........
غموں میں غرق راتیں ہیں بہت پر درد باتیں ہیں میری آنکھوں کے حلقوں کو ذرا تم غور سے دیکھو میں سونا چاہتا ہوں پر میری آنکھوں کو عادت ہے تیری یادوں سے جلنے کی اکیلے یوں سلگنے کی میں آنکھیں بند کر تا ہوں خیال یار سے ہٹ کر سنو ! میں سو تو جاتا ہوں میں کھو تو جا تا ہوں مگر اتنی سی گزارش ہے میرے خوابوں میں مت آنا میرے خوابوں میں مت آنا....!! Miss you so much 💔
تو مری ذات کے پھیلاؤ سے واقف ہی نہیں ایسے گملوں میں اُگانے سے نہیں ہوتا میں پہلے ہوتا ہوں دکھانے کو، کے ہو سکتا ہوں پھر نہ ہونے کے بہانے سے نہیں ہوتا میں
سٹریس اور ڈپریشن میں تمہیں اجازت ہے کہ تم مجھے کال کر سکتے ہو میں تمہیں قبانی اور جان کیٹس کی وہ رومانوی نظمیں سناؤں گا جنہیں سن کر تم خود کشی کی بجائے محبت کرنے کے طریقے دریافت کرو گے۔۔۔!! لیکن افسوس کہ ایسا کہنے والا کوئی نہیں ۔۔!!!