اِک فقط تُجھ سے تغافل نہیں برتا میں نے
ورنہ ہر ذات سے مفروُر ہوئے پھِرتے ہیں۔♥
روح من
حیرت ہےکہ تیرے ہوتے ہوۓ
ہم دید کے واسطے
مارے گۓ
حیرت زدہ ہوں کہ تیرے رہتے
مجھے رزق سماعت سے محروم رکھا گیا
__🖤
تجھ میں گم رہ گیا ہوں
میں خود میں کم رہ گیا ہوں
سناٹا ٹھر گیا ہے مجھ میں
میں فقط اب تم رہ گیا ہوں
ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﯽ ﺍﻟﮭﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﻮﺍﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
ﮐﺎﻏﺬ ﭘﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺍُﺗﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
ﺑﺲ ﺍِﺗﻨﺎ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﻭﺍﺯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍِﺗﻨﺎ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺗﮭﺎ
ﮨﻢ ﮐﻮ ﻓﻘﻂ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎ
ﻣﺤﺴﻦ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ
عين ممكن هے جنت میں بھی نہ مل سکیں ہم
یہاں پر ذات کا مسئلہ وہاں پر درجات کا دُکھ
میں کسی شخص کے مرنے پہ بھی غمگین نہیں
خاک اگر خاک میں ملتی ہے __تو حیرانی کیا؟؟
خط میں لکھتے ہو بہت دکھ ہے تمہیں ہجرت کا
یار جب جا ہی چکے ہو ____ تو پشیمانی کیا؟؟
اس نے آداب محبت کا بھرم بھی نہ رکھا!!
ورنہ بیمار کو زنجیــــــــر کہاں ڈالتے ہیں!!
روح من
حیرت ہےکہ تیرے ہوتے ہوۓ
ہم دید کے واسطے
مارے گۓ
حیرت زدہ ہوں کہ تیرے رہتے
مجھے رزق سماعت سے محروم رکھا گیا
__🖤
اب کے ساون میں بھی زردی نہ گئی چہرے کی
ایسے موسم میں تو جنگل بھی ہرا لگتا ہے... 💔
کس جوانی میں اُجاڑا تری چاہت نے مجھے
ایسی رُت میں تو درختوں کو ثمر لگتے ہی۔🖤🌸
جنہیں کر سکا نہ قبُول مٙیں ، وُہ شریکِ راہِ سٙفر ہُوئے
جو مِری طلب، مِری آس تھے، وہی لَوگ مُجھ سے بِچھڑ گئے
🥀🥀🥀
آئنہ توڑ دیا آج میں نے
جب اس کو خود میں دیکھا .
لو ہو گیا ہر روز بات کا سلسلہ ختم
لو اب صرف یادوں پہ گُزارا کیا جائے گا
مجھے معلوم تھا پہلے دن سے یہ سب
مجھے دُکھ کوئی اچھا خاصا دیا جائے گا
میرے مزاج کو تنہائی راس آتی ہے
مجھے پسند ہے لوگوں سے فاصلہ رکھنا
اِک روز کوئی آئے گا لے کر کے فُرصتیں
اِک روز ہم کہیں گے ضرورت نہیں رہی
ارے آپ ہنسنے لگے مجھ پہ۔۔۔۔!!!
مجھے گمان تھا آپ سمجھیں گے۔۔!!
"امید تمام دکھ درد کی جڑ ہے۔"
➖ ولیم شیکسپیئر
_🖤
اور مجھے تمہارے لوٹ آنے کی امید
وہ نہیں موت سہی🖤
موت نہیں نیند سہی
کوئی تو_______ اجائے
گنہگار کا مقدر__ بن جائے❣️
تیرے انتظار کے لمحات
طویل کیا ھوئے
میری زندگی کی کتاب کے
سبھی حروف
مٹ گئے
اے میری تقدیر کے کاتب
ذرا پھر سے قلم اٹھا
اور اس کتاب زندگی کے پہلے صفحے پر
اسکا نام لکھ
اسے میرے نام لکھ❤️ .
بچھڑتے وقت کہا تھا 'یہیں کھڑا ملوں گا
مگر یہ کس نے کہا تھا ہرا بھرا ملوں گا؟
میں منتظر ہوں قلم کار اس کہانی میں
اس ایک موڑ کا جب میں کہیں مرا ملوں گا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain