Damadam.pk
aasi-1's posts | Damadam

aasi-1's posts:

aasi-1
 

قافلہ رہ گیا اک دشتِ بلا میں پیاسا
جنؑ کی میراث تھی کوثر انہیں پانی نہ ملا

aasi-1
 

اتنا حیران تھا میں سامنے پا کر اس کو
ایک پل کے لیے اس کو بھی لگا “میں تو گیا”
دے تو دوں تجھ کو مرا مصرعہ دل لیکن یار
تو اگر اس کو نبھا ہی نہ سکا ، میں تو گیا
نامعلوم

aasi-1
 

یہ لوگ پرندے مارتے ہیں
مِرے یار یہ بستی ٹھیک نہیں !!

aasi-1
 

رات بھی تو گزار لی میں نے
زندگی بھی گزار لوں گا میں
تہذیب حافی🙏🖤

aasi-1
 

اور کتنی حیات باقی ہے
اور کتنا ذلیل ہونا ہے
افکار علوی

aasi-1
 

ہماری پھینکی ہوئی ڈھال کو بنا کر ڈھال
حریف سامنے آیا تو اُس پہ رحم آیا
افکار علوی

aasi-1
 

۔
یہ میرے بعد ، دریچے سے لگ کے روئے گا.
ابھی تو دُکھ کو ، میری آنکھ کا سہارا ہے

aasi-1
 

اس شخص کے نفاق کو جانو گے کیسے
جو روتا تو دلفریب ہے، ہنستا اداس ہے.

aasi-1
 

میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تک ۔۔
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ ۔۔۔
کئی موسموں میں بدل گیا ۔۔۔۔
اُسے ناپتے اُسے کاٹتے۔۔۔۔
میرا سارا وقت نکل گیا۔۔۔
امجد اسلام امجد

aasi-1
 

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں
تخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوں
مسجدوں اور مزاروں میں مرے چرچے ہیں
مندروں اور کلیساؤں میں دیکھا گیا ہوں
دفن ہوتی ہوئی جھیلوں میں ٹھکانے ہیں مرے
خشک ہوتے ہوئے دریاؤں میں دیکھا گیا ہوں
لمحہ بھر کو مرے سر پر کوئی بادل آیا
کہنے والوں نے کہا چھاؤں میں دیکھا گیا ہوں
پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں
آخری بار ترے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں۔۔۔۔
وصل کے تین سو تیرہ میں کہیں ہوں موجود
ہجر کے معرکہ آراؤں میں دیکھا گیا ہوں
ندیم بھابھہ

aasi-1
 

بے بسی کی یہ آخری حد ہے
میری اولاد آپ پر جائے
اس کے چہرے پہ آج اداسی تھی
ہائے۔۔۔ افکار علوی مر جائے

aasi-1
 

اور ایک یہ دکھ بھی ہم کو اندر سے کھا رہا ہے
کہ ہم نہ ہونگے مگر اداسی کھڑی رہے گی
ہمارے مرنے پہ کوئی جی بھر کے کھائے گا ، اور
ہمارے دکھ میں کسی کی روٹی پڑی رہے گی
افکار علوی

aasi-1
 

ﺗﻢ ﺑﮍﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻟﻮﭨﮯ ﮨﻮ
ﺩﺭﺩ ﮐﺎﻓﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﺏ ﺗﻮ
ﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﺮﮨﻢ ﮐﯽ
ﺯﺧﻢ ﻧﺎﺳﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﺏ ﺗﻮ
💔

aasi-1
 

مقامِ بے حسی پر لائی بے بسی کہ مجھے
کوئی بھی دکھ نہیں باقی ، نہ انتظار ترا
ترے ہی دھوکے سے دنیا سمجھ میں آئی ہے
لہذا شکریہ اے شخص بے شمار ترا....

aasi-1
 

میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تک ۔۔
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ ۔۔۔
کئی موسموں میں بدل گیا ۔۔۔۔
اُسے ناپتے اُسے کاٹتے۔۔۔۔
میرا سارا وقت نکل گیا۔۔۔
امجد اسلام امجد

aasi-1
 

ایک سمندر ہے جو میرے قابو میں ہے
اور ایک قطرہ ہے جو مجھ سے سنبھالا نہی جاتا
اک عمر ہے جو بتانی ہے اس کے بغیر
اور ایک لمحہ ہے جو مجھ سے گزارہ نہی جاتا

aasi-1
 

تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا
ایک دھڑکا لگا گئی بارش
بند کھڑکی کے صاف شیشوں پر
عکس تیرا بنا گئی بارش
وقتِ رُخصت تجھے نہیں معلوم
کتنے آنسو چھپا گئی بارش
قطرہ قطرہ گِری مگر پھر بھی
زخم گہرا لگا گئی بارش

aasi-1
 

مجھے کالا رنگ بہت پسند ہے
کالے گلاب__!!
بوڑھے لوگ__!!
ہنستے بچے__!!
ناولز اور پر اسرار قصے!!
پرانے سوکھے پیڑ__!!
رات کی تنہائی__!!
چاۓ کا کپ__!!
سردیوں کی بارش__!!
خاموش سمندر،دھکتا صحرا_!!
موت سی گہری خاموشی__!!
گہرا جنگل__!!
اونچے کالے پہاڑ__!!
مٹی کی خوشبو !!
دشت جنوں__!!
موت سا سکوں_!!
گرمیوں کی دوپہر
ہاں یہ سب مجھے پسند ہے🦇🌎

aasi-1
 

آج ہلکی ہلکی بارش ہے
اور سرد ہوا کا رقص بھی ہے
آج پھول بھی بکھرے بکھرے ہیں
اور ان میں تیرا عکس بھی ہے
آج بادل گہرے گہرے ہیں
اور چاند پر لاکھوں پہرے ہیں
کچھ ٹکڑے تیری یادوں کے
بڑی دیر سے دل میں ٹھہرے ہیں
میرے دل پہ یوں تم چھاۓ ہو
آج۔۔۔۔۔یاد بہت تم آۓ ہو

aasi-1
 

زرا سا ہنسیں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہم اداس لوگوں کے عجیب مسائل ہیں