اور ایک یہ دکھ بھی ہم کو اندر سے کھا رہا ہے کہ ہم نہ ہونگے مگر اداسی کھڑی رہے گی ہمارے مرنے پہ کوئی جی بھر کے کھائے گا ، اور ہمارے دکھ میں کسی کی روٹی پڑی رہے گی افکار علوی
میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تک ۔۔ وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ ۔۔۔ کئی موسموں میں بدل گیا ۔۔۔۔ اُسے ناپتے اُسے کاٹتے۔۔۔۔ میرا سارا وقت نکل گیا۔۔۔ امجد اسلام امجد
تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا ایک دھڑکا لگا گئی بارش بند کھڑکی کے صاف شیشوں پر عکس تیرا بنا گئی بارش وقتِ رُخصت تجھے نہیں معلوم کتنے آنسو چھپا گئی بارش قطرہ قطرہ گِری مگر پھر بھی زخم گہرا لگا گئی بارش
مجھے کالا رنگ بہت پسند ہے کالے گلاب__!! بوڑھے لوگ__!! ہنستے بچے__!! ناولز اور پر اسرار قصے!! پرانے سوکھے پیڑ__!! رات کی تنہائی__!! چاۓ کا کپ__!! سردیوں کی بارش__!! خاموش سمندر،دھکتا صحرا_!! موت سی گہری خاموشی__!! گہرا جنگل__!! اونچے کالے پہاڑ__!! مٹی کی خوشبو !! دشت جنوں__!! موت سا سکوں_!! گرمیوں کی دوپہر ہاں یہ سب مجھے پسند ہے🦇🌎
آج ہلکی ہلکی بارش ہے اور سرد ہوا کا رقص بھی ہے آج پھول بھی بکھرے بکھرے ہیں اور ان میں تیرا عکس بھی ہے آج بادل گہرے گہرے ہیں اور چاند پر لاکھوں پہرے ہیں کچھ ٹکڑے تیری یادوں کے بڑی دیر سے دل میں ٹھہرے ہیں میرے دل پہ یوں تم چھاۓ ہو آج۔۔۔۔۔یاد بہت تم آۓ ہو
کسی سے اک بات کہنی هے زرا سی بهی جگہ میرے لئیے گر هے اس کے دل میں کوئی بهولا بسرا لمحہ دل میں جوت جگائے تو یا بیٹهے ،بیٹهے کبهی کوئی یاد ستائے تو کوئی درد کسک بن جائے اور ٹیس بن جائے تو یا رت جگے میری طرح راتوں کو جگائیں تو یا دور کوئی جوگی درد کا گیت گائے تو بس ، اتنی سی التجا هے ہم پے احسان اتنا کردیں وہ جب کبهی سامنا ہوجائے ہمیں آواز دے لیں وہ کوئی انجانی آواز اب ہوش و حواس پر اثر انداز نہیں ہوتی ناطہ ٹوٹا گیا جب سے ان سے اور کسی سے بات نہیں ہوتی کیونکہ آج کل ہم اپنے ، حواسوں میں نہیں رہتے عام ہوچکے ہیں اب ،خاصوں میں نہیں رہتے