یہ لمحے عشق و مستی کے سدا پابند نہیں رہتے سدا خوشیاں نہیں رہتیں، ہمیشہ غم نہیں رہتے ذرا دیکھو کہ دروازے پہ دستک کون دیتا ہے محبت ہو تو کہہ دینا۔۔۔ یہاں اب ہم نہیں رہتے🥀
کب نکلتا ہے کوٸی دل میں اترجانے کے بعد اس گلی کی دوسری جانب کوٸی رستا نہیں ہے تم سمجھتے ہو بچھڑجانے سے مٹ جاتا ہے عشق تم کو اس دریا کی گہراٸی کا اندازہ نہیں ہے
تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں کیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیں تو جہاں تک دیکھائی دیتا ہے اس کے آگے میں دیکھتا ہی نہیں مجھ پہ ہو کر گزر گئی دنیا میں تری راہ سے ہٹا ہی نہیں پڑھتا رہتا ہوں رات دن اس کو اس نے جو خط کبھی لکھا ہی نہیں
اگر ہو کُچھ اُمید تو ، ہو جاؤں پُرسُکوں اِک بے وجہ سی آس ہے، ویسے تو ٹھیک ہُوں دیکھا جو چاند کو تو ، کوئی یاد آگیا سو دل میرا اُداس ہے ، ویسے تو ٹھیک ہُوں.
مانتا ہوں تجھے عشق نہیں مجھ سے لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو ۔!! سر کی کھائی ہوئی قسموں سے مکرنے والے تو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو ۔!! 🍁🍁🍁
بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص ہم تو مقتل میں بھی آتے ہیں بصد شوق و نیاز جیسے آتا ہے محبت سے پکارا ہوا شخص کب کسی قرب کی جنت کا تمنائی ہے یہ ترے ہجر کے دوزخ سے گزارا ہوا شخص بعد مدت کے وہی خواب ہے پھر آنکھوں میں لوٹ آیا ہے کہیں جا کے سِدھارا ہوا شخص اب اندھیرے ہیں کہ لیتے ہیں بلائیں اُس کی روشنی بانٹ گیا دیپ پہ وارا ہوا شخص موت کے جبر میں ڈھونڈی ہیں پناہیں اس نے زندگی یہ ہے ترے لطف کا مارا ہوا شخص