میں اپنی اذیت الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔
کیوں کہ اذیت پڑھی نہیں جا سکتی صرف محسوس کی جا سکتی ہے اور یہ وہی محسوس کر سکتا جس پر بیت رہی ہوتی ہے ۔ اور میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میں روز تھوڑا تھوڑا کر کے مر رہا ہوں ۔
تلاش تجھ کو کروں میں جا بجا
برس رہی تھی بارش باہر
وہ بھیگ رہا تھا مجھ میں
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اُس زخم ہی کو بھول گیا
ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی، اجنبی کو بھول گیا
عہدِ وابستگی گزار کے میں وجہِ وابستگی کو بھول گیا
سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا
کیوں نہ ہو ناز اِس ذہانت پر ایک میں ہر کسی کو بھول گیا
سب سے پُر امن واقعہ یہ ہے آدمی، آدمی کو بھول گیا
قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہر غمِ زندگی کو بھول گیا
اُن سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرصتی کو بھول گیا
اس نے گویا مُجھی کو یاد رکھا میں بھی گویا اُسی کو بھول گیا
یعنی تُم وہ ہو،۔ واقعی ؟ حد ہے میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا
اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بھول گیا
ویرانوں میں ایک کشش ہوتی ہے
مگر وہاں رہنا کوئی نہیں چاہتا
جیسے اُجڑے ہوئے لوگوں کو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے
مگر اپنانا کوئی نہیں چاہتا
ختم ہونے کو ہے سفر شاید💥
پھر ملیں گے کبھی، مگر شاید💔
بہت ہی یاد آتے ہو
ذرا ملنے چلے آؤ
مجھے کچھ تم سے کہنا ہے
زیادہ وقت نہیں لوں گا
ذرا سی بات کرنی ہے
نہ دکھ اپنے سنانے ہیں
نہ کوئی فریاد کرنی ہے
نہ یہ معلوم کرنا ہے
کہ اب حالات کیسے ہیں
تمہارے ہمسفر تھے جو
تمہارے ساتھ کیسے ہیں
نہ یہ معلوم کرنا ہے
تیرے دن رات کیسے ہیں
مجھے بس اتنا کہنا ہے
مجهے تم یاد آتے ہو
بہت ہی یاد آتے ہو.
بہت ہی یاد آتے ہو
کاش یہ دل دھڑکنا چھوڑ دے
یہ سانس رک جائے
یہ دم نکل جائے
یہ روح تڑپ رہی ہے تمہارے پاس آنے کے لیے
لیکن تمہارے جاتے وقت میں تم نے جو کہا
وہ الفاظ بہت رلاتے ہے
گونجتے رہتے ہیں ________ الفاظ میرے کانوں میں
تم تو آرام سے کہہ گئے تھے مجھ سے اب بات نہ کرنا
بے بسی کی انتہا پر ہوں
آ دیکھ تو سہی کسی روز مجھ کو
تیری جدائی میری جوانی کھا گئ ہے
جس جگہ بچھڑے تھے ہم دونوں اس روز
آج بھی میں تمہارا وہاں انتظار کرتا ہوں
وہ ملے تو اتنا کہنا قاصد
حال اچھا نہیں ہے بیمار کا
مقدر کا عجب ہی کھیل کھیلا ہوں
میں واقف غم سے ہوں ہر درد جھیلا ہوں
تمہارے ساتھ تو تنہا رہا ہوں میں
مگر تم سے بچھڑ کر بھی اکیلا ہوں
میں ذہنی اذیت میں گرفتار لڑکا رفتہ رفتہ مر رہا ہوں
کبھی کبھی سانسیں بھی بوجھ لگنے لگتی ہیں
اداسی کا سبب کچھ اور ہے
اور میں کسی بہانے سے رویا ہوں
آج تم بے حساب یاد آئے
نجانے کیوں تیرا مل کر بچھڑا یاد آتا ہے
میں رو پڑتا ہوں جب گزرا زمانہ یاد آتا ہے
السلام علیکم
اج میں نے سرائیکی میں لکھنے کی کوشش کی ہے سرائیکی کا یہ میرا پہلا شعر ہے
آپ سب اپنی رائے سے آگاہ کیجئے کہ کیسا لکھا ہے
ہسدے بلاں نوں رج کے روا تیکوں یار اجازت اے
رشتے سارے ای پاویں مکا تیکوں یار اجازت اے
میکوں پتا اے تو سنگتاں توں تنگ تھی ویندا ایں
آج میکوں چھوڑ کے تو جا تیکوں یار اجازت اے
کسی کے ہجر کسی کے خیال میں گزرا ہے
نہ پوچھو کہ یہ کس حال میں گزرا ہے
نئے سال میں ہوں گے شام و سحر بھی نئے
یہ رواں سال تو بس ملال میں گزرا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain