آج تیری گلی میں وفا کا تماشا ہو گا اور کوئی تیرا بیمار وہاں بیٹھا ہو گا سب کو حیرت ہوگی دیکھ کر انجام میں بھی دیکھوں گا کہ کیا ہو گا سر شام ہی بیٹھ کر سوچنے لگتا ہوں ایک ہی تو دل ہے کتنا ٹوٹا ہو گا تم کس لیے اداس ہو رہے ہو یار محبت پر یقین ہے ضرور کوئی معجزا ہو گا ۔ خدا ہمیں پھر سے ملائے گا ایک دن تب وہاں جدائی کا نہ کوئی خدشہ ہو گا میں مجبوری کو سمجھ تو رہا ہوں عاصم ~ تم بھی تو دیکھو کوئی اور بھی راستہ ہو گا
دشمن تو خیر دشمن ہیں .یاروں سے ڈر لگتا ہے اس دور ناگہانی کے وفا شعاروں سے ڈر لگتا ہے اٹھانے کی امید پر اتنی بار گرایا گیا ہوں ہاتھ بڑھاتے ہوئے سہاروں سے ڈر لگتا ہے موج در موج دریا سے لڑ سکتا ہوں مگر . ریت سے ملاتے ہوئے کناروں سے ڈر لگتا ہے دھندلا گئی ہیں آنکهیں روشنی کے فریب میں اب چمکتے ہوئے شمس اور ستاروں سے ڈر لگتا ہے گنہگاروں سے تو مل سکتی ہے طبیعت اپنی مگر ان پارساؤں اور صاحب کرداروں سے ڈر لگتا ہے پورا شہر ہوا جاتا ہے ہمدرد اپنا مجھے ان سب فنکاروں سے ڈر لگتا ہے مختصر کہوں تو بات اتنی سی ہے عاصم~ مجھے آج میرے ہی جانثاروں سے ڈر لگتا ہے
کچھ اس طرح سے آزمایا گیا مجھے تیرے نام لے لے کر ستایا گیا مجھے میں جانتا ہوں یہ فریب ہے حیات کا اک ٹوٹا ہوا خواب دکھایا گیا مجھے پہلے سمیٹا گیا میری کرچیوں کو پھر تمناؤں کی آگ میں جلایا گیا مجھے پھر پلٹا ہی نہیں میں کبھی اس طرف تیری محفل سے ایسے اٹھایا گیا مجھے بروزِ حشر یہ شکوہ کروں گا میں خدا سے اک شخص کے لیے اتنا کیوں ترسایا گیا مجھے نہ پوچھ کیسے جھیلے ہیں تیرے ستم اے زندگی تھوڑا ہنسا ہوں اور زیادہ رولایا گیا مجھے پھر لگا یہ فتویٰ کہ مرنا حرام ہے عاصم~ پہلے مقام خود کشی تک لایا گیا مجھے
اک رات میں اس قدر بدل گیا سیاہ بختی میں میرا مقدر بدل گیا شاید شدائی تھا وہ شخص دشت کا جو میرے صحرا سے سمندر بدل گیا وہ جھیل وہ پربت وہ پری کچھ نہ تھا آنکھ کھلی تو سامنے منظر بدل گیا سفر تو بہت خوش گوار گزرا لیکن عین منزل پر پہنچ کر ہمسفر بدل گیا
تو جیت کی خوشی میں مات کا دکھ ہوں تو روشنی ہے دن کی میں رات کا دکھ ہوں تم پر جو بیتی تو نہیں تو سمجھ نہیں سکتے میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ میں بات کا دکھ ہوں