محبت کی کہانی ادھوری تھی جو رہ گئی بھروسہ ٹوٹ گیا مجبوری تھی جو رہ گئی یوں تو مٹائے ہیں بہت فاصلے مگر پھر بھی ہمارے بیچ ایک دوری تھی جو رہ گئی متاعِ سفر باندھا تو دھیان نہ رہا عاصم~ سرسری چیز رکھ لی ضروری تھی جو رہ گئی
میرے لیے جیتا ہو میرے لیے مرتا ہو اک شخص تو مجھ سے ایسی محبت کرتا ہو میری تکلیف سے اسے بھی درد ہو میری خوشیوں میں رنگ نئے وہ بھرتا ہو میں جو کہوں تو ہنسے وہ میں جو کہوں تو بولے میری ہر اک بات کا مان وہ رکھتا ہو میں جو روٹھوں تو منا لے وہ مجھ کو مجھ سے بچھڑ کر جینے سے وہ ڈرتا ہو اک شخص تو مجھ سے ایسی محبت کرتا ہو
یہاں ہر کوئی کھلاڑی ملا ہے ۔ کوئی بھائی بن کر کوئی بہن کر کوئی دوست بن کر کوئی محبوب بن کر ملا ہے ۔ مگر کھیلے سب جذبات سے ہیں ۔ اب تو ان رشتوں سے ڈر لگنے لگا ہے
لوگ الفاظ پڑھ کر واہ کر دیتے ہیں لیکن کے بیچ کے زخم کوئی نہیں دیکھ سکتا وہ الفاظ الفاظ نہیں بلکہ وہ آنسوؤں ہیں جو ضبط کی وجہ سے آنکھ سے نہیں نکل سکے ۔۔
اب کی بار یہ استخارہ بتا رہا ہے میرے حصے آئے گا خسارا بتا رہا ہے موج تلاطم ہمیں لے ڈوبے گی یار دریا کا مزاج یہ کنارا بتا رہا ہے درد کے سوا کچھ بھی نہیں ہے زندگی یہ ہمیں کوئی قسمت کا مارا بتا رہا ہے