تو سن کیوں نہیں رہا
میں مر رہا ہوں
اور پھر ہم دل سے اُتر گئے ذہنوں سے نکل گئے
یہ دعا ہے آتشِ عشق میں
کہ میری طرح تُو جلا کرے
نہ نصیب ہو تجھے بیٹھنا
تیرے دل میں درد اٹھا کرے
لَٹیں ہوں کُھلی اور چشم تر
کہیں نالا لب پہ ہو سوزگر
کہ میری تلاش میں در بدر
تُو پکڑ کے دل کو پِھرا کرے
تیرےسامنے تیرا گھر جلے
نہ بُجھا سکے تُو نہ بس چلے
تیرے مُنہ سے نِکلے یہی دعا
کہ نہ گھر کسی کا جلا کرے
لوٹ آئیں خیر سے پھر وہ دن
کہ نہ آئے چین تجھے ہمارے بن
نہ لگائین تجھ کو گلے سے ہم
تُو ہزار منتیں کیا کرے.
یہ دعا ہے آتشِ عشق میں
کہ میری طرح تُو جلا کرے
نہ نصیب ہو تجھے بیٹھنا
تیرے دل میں درد اٹھا کرے
لَٹیں ہوں کُھلی اور چشم تر
کہیں نالا لب پہ ہو سوزگر
کہ میری تلاش میں در بدر
تُو پکڑ کے دل کو پِھرا کرے
تیرےسامنے تیرا گھر جلے
نہ بُجھا سکے تُو نہ بس چلے
تیرے مُنہ سے نِکلے یہی دعا
کہ نہ گھر کسی کا جلا کرے
لوٹ آئیں خیر سے پھر وہ دن
کہ نہ آئے چین تجھے ہمارے بن
نہ لگائین تجھ کو گلے سے ہم
تُو ہزار منتیں کیا کرے.
مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں
کہ میں یاد تم کو نہ آ سکا
مگر اتنی بات ضرور ہے
کہ تمہیں نہ دل سے بُھلا سکا
دلِ عشق بار کو کیا کہوں
یہ نہ کچھ بھی کر کے دِکھا سکا
نہ اِدھر کی آگ بُجھا سکا
نہ اُدھر ہی آگ لگا سکا
میں وفورِ درد سے چُور تھا
اُدھر اُن کو بھی تو غرور تھا
کہوں کیا کہ کس کا قصور تھا
نہ وہ آ سکے نہ میں جا سکا
یہ وفا کی راہ میں دیکھیئے
میرے آرزُؤں کی ہستگی
میں کسی کے قدموں میں گِر کے بھی
نہ کسی کو اپنا بنا سکا
یادوں کے قافلے سے جدا نہیں ہوں
اکیلا ضرور ہوں مگر تنہا نہیں ہوں
آپ کیوں اتنا تجسّس رکھتے ہیں مجھ میں
آپ سے کہا تو ہے آپ کا مسئلہ نہیں ہوں
غلط بتایا گیا ہے آپ کو میرے بارے میں
جتنا آپ سمجھتے ہیں اتنا بھی برا نہیں ہوں
سو مسائل تھے سفر کے سو الجھ گیا میں
رکنا تھا مجھ کو جہاں وہاں رکا نہیں ہوں
اس نے ایک بھی نہ سنی میں لاکھ کہتا رہا
میرا دور گزر گیا ہے اس دور کا نہیں ہوں
یوں حیرت سے تو نا دیکھ تو مجھ کو
میں بھی انسان ہوں کوئی تماشا نہیں ہوں
بروز حشر جو ہوا کلام تو خدا سے پوچھوں گا
اتنے امتحان کیوں کیا میں تیرا بندا نہیں ہوں
نہ رنجشوں کی کارستانی نہ عداوتوں میں مارا گیا
چہرا بتا رہا ہے کہ یہ محبتوں میں مارا گیا
وہ دشمنوں کے مقابل تو سرخرو ٹھہرا لیکن
واپس جو پلٹا تو آپنے ہی خیموں میں مارا گیا
لاش پڑی تھی اس کی حدود دشمناں میں
وہ شخص جو اپنوں ہی دوستوں میں مارا گیا
مرکوز رہے جس سے تمام قصے وفاؤں کہ
وہ خود تو بے وفائی کے سلسلوں میں مارا گیا
میں ابھی زندہ ہوں یار تو ماتم نہ بنا
وہ تو میرا کردار تھا جو قصوں میں مارا گیا
یادوں سے نکالے اور ذہنوں سے اتاررے ہوئے ہیں
ہم لوگ حالات کے ہاتھوں سے مارے ہوئے ہیں
یار تو ہی بتا زمانے سے لڑیں تو کس امید پر لڑیں
یہ جانتے ہوئے بھی کہ مقدر ہی ہارے ہوئے ہیں
کوئی جو ہم سے پوچھے آ کر حال زار ہمارا تو
کیسے اس کو بتائیں کہ محبت میں خسارے ہوئے ہیں
بے عنوان سی اس کہانی کا یہی اختتام ٹھہرا عاصی~
ہم اپنے بھی ہو نہ سکے اور نہ تمہارے ہوے ہیں
زمز عشقِ سے جنون نکالتا گیا
میں اپنی زندگی سے سکون نکالتا گیا
وہ بس چکا تھا اس قدر مجھ میں کہ
اسے بھولنے کے لیے رگوں سے خون نکالتا گیا
یاد ڈاکٹر ہو تو میرا علاج کیوں نہیں کرتے
مجھے خود کشی کے خیال آتے ہیں دو سالوں سے
رات رویا تو چین سے سویا
زہر دل چشم تر سے نکلا
https://youtu.be/JQkn0qXXvNI
Subscribe this channel please
وحشت دیکھ کر ڈر گئے
مدتوں بعد جو گھر گئے
ہمیں دیکھ کر ہنستے تھے جو
وہ لوگ اب کدھر گئے
پھول جتنے بھی تھے چمن میں
ان آندھیوں میں بکھر گئے
ضبط اپنی جگہ لیکن میں کیا کروں
آج میرے دوست مر گئے
اک رات میں اس قدر بدل گیا
سیاہ بختی میں میرا مقدر بدل گیا
شاید شدائی تھا وہ شخص دشت کا
جو میرے صحرا سے سمندر بدل گیا
وہ جھیل وہ پربت وہ پری کچھ نہ تھا
آنکھ کھلی تو سامنے منظر بدل گیا
سفر تو بہت خوش گوار گزرا لیکن
عین منزل پر پہنچ کر ہمسفر بدل گیا
کتنا خوش گوار سفر گزرا لیکن
عین منزل پر ہم سفر بدل گیا
خود کو سمجھنے میں بہت دیر کر دی
لوگوں کو کیا خاک سمجھیں گے
مر مر کے تہ ملے سی
انے وی کہ گلے سی
سولی تے لٹکیاں دا اعتبار وی نہ آیا
آسی زندگی گنواہ لی تینوں پیار وی نہ ایا
قصے الفت کے سنا کر وقت گزر گیا
مجھ کو باتوں میں الجھا کر وقت گزر گیا
میں جانتا ہوں وہ لوٹ کر نہیں آئے گا لیکن
انتظار میں مجھے کو بٹھا کر وقت گزر گیا
تعبیر ملی ہی نہیں عمر بھر جن کی مجھ کو
خواب ایسے ایسے دکھا کر وقت گزر گیا
میں معصوم تھا اس کی باتوں میں آ گیا
میں تیرا ہی تو ہوں یہ بتا کر وقت گزر گیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain