رات رویا تو چین سے سویا
زہر دل چشم تر سے نکلا
https://youtu.be/JQkn0qXXvNI
Subscribe this channel please
وحشت دیکھ کر ڈر گئے
مدتوں بعد جو گھر گئے
ہمیں دیکھ کر ہنستے تھے جو
وہ لوگ اب کدھر گئے
پھول جتنے بھی تھے چمن میں
ان آندھیوں میں بکھر گئے
ضبط اپنی جگہ لیکن میں کیا کروں
آج میرے دوست مر گئے
اک رات میں اس قدر بدل گیا
سیاہ بختی میں میرا مقدر بدل گیا
شاید شدائی تھا وہ شخص دشت کا
جو میرے صحرا سے سمندر بدل گیا
وہ جھیل وہ پربت وہ پری کچھ نہ تھا
آنکھ کھلی تو سامنے منظر بدل گیا
سفر تو بہت خوش گوار گزرا لیکن
عین منزل پر پہنچ کر ہمسفر بدل گیا
کتنا خوش گوار سفر گزرا لیکن
عین منزل پر ہم سفر بدل گیا
خود کو سمجھنے میں بہت دیر کر دی
لوگوں کو کیا خاک سمجھیں گے
مر مر کے تہ ملے سی
انے وی کہ گلے سی
سولی تے لٹکیاں دا اعتبار وی نہ آیا
آسی زندگی گنواہ لی تینوں پیار وی نہ ایا
قصے الفت کے سنا کر وقت گزر گیا
مجھ کو باتوں میں الجھا کر وقت گزر گیا
میں جانتا ہوں وہ لوٹ کر نہیں آئے گا لیکن
انتظار میں مجھے کو بٹھا کر وقت گزر گیا
تعبیر ملی ہی نہیں عمر بھر جن کی مجھ کو
خواب ایسے ایسے دکھا کر وقت گزر گیا
میں معصوم تھا اس کی باتوں میں آ گیا
میں تیرا ہی تو ہوں یہ بتا کر وقت گزر گیا
میں اک شخص کے جانے پر نہیں رویا مرشد
وہ شخص نہیں میری دنیا تھا مرشدِ
اک فریاد کر رہا ہوں
کسی کو یاد کر رہا ہوں
لوٹ آؤ کے میں تم بن ادھورا ہوں
اک شخص کی خاطر مجھ کو
لاہور پیارا لگتا ہے
آج دل بہت اداس ہے
آج کوئی دل سے دعا دو
میری شاعری کا عنوان تم ہو
میرا خیال وہم و گمان تم ہو
elaaf
اور میرے پاس بس خاموشی ہے
حسرتیں تمام ہو جائیں
لوٹ آؤ اس پہلے کے شام ہو جائے
بہت یاد آتے ہو
اک بار لوٹ آؤ
چاروں طرف تنہائی ہے ایک اداسی چھائی ہے
سوچ کہ اس کی باتیں آنکھ میری بھر آئی ہے
بے چینی ہے سانسوں میں درد اٹھے سینے میں
بچھڑ کر اپنے دلبر سے مزا نہ آئے جینے میں
مجھ کو کتنا ستاتی ہے وہ لڑکی بہت یاد آتی ہے
کبھی مجھ کو ہنسائے کبھی مجھ کو رولائے
مجھے کتنا رولاتی ہے
وہ لڑکی بہت یاد آتی ہے
نہ جھانکو آج دریچوں سے دروازہ کھلا ہے ، آ جاؤ
کبھی استقبال جو کرتا تھا ، بیمار پڑا ہے ، آ جاؤ
ماتھے پہ پسینہ یادوں کا ، دل میں ہے بلا کی بے چینی
دیدار کی حسرت آنکھوں میں ، ہونٹوں پہ دعا ہے ، آ جاؤ
ہاتھوں کی لکیریں نظروں کو کچھ بدلی بدلی لگتی ہیں
کچھ رشتہ بُرج ستاروں کا تبدیل ہوا ہے ، آ جاؤ
ہاں تم نے کہا تھا جب جانا ، کوئی چیز نشانی لے جانا
سانسوں کا سفینہ ساحل پہ تیار کھڑا ہے ، آ جاؤ
کافر ہو جو آپ کے وعدے پر شاکر یقین نہ کرے
احساسِ کے ہاں امیدوں کا دم ٹوٹ رہا ہے آ جاؤ
Sachi
آج دیکھا میں نے خمار محبت کا
میں اکیلا ہی نہیں تھا بیمار محبت کا
میں خالی ہاتھ تھا سو خرید نہ سکا
شہر بھر میں ہوتا رہا کاروبار محبت کا
جذبوں میں صداقت ہو تو نظر آتی ہے
لفظوں سے ممکن کہاں اظہار محبت کا
یوں سر بازار تو نہ گنواہ خامیاں میری
کچھ بھرم ہی رکھ لے یار محبت کا
نزاع تک تو پہنچ آیا ہوں عاصی~
اور کہاں تک کرتا اعتبار محبت کا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain