Damadam.pk
aasi-1's posts | Damadam

aasi-1's posts:

aasi-1
 

میں اک شخص کے جانے پر نہیں رویا مرشد
وہ شخص نہیں میری دنیا تھا مرشدِ
اک فریاد کر رہا ہوں
کسی کو یاد کر رہا ہوں
لوٹ آؤ کے میں تم بن ادھورا ہوں

aasi-1
 

اک شخص کی خاطر مجھ کو
لاہور پیارا لگتا ہے

aasi-1
 

آج دل بہت اداس ہے
آج کوئی دل سے دعا دو

aasi-1
 

میری شاعری کا عنوان تم ہو
میرا خیال وہم و گمان تم ہو
elaaf

aasi-1
 

اور میرے پاس بس خاموشی ہے

aasi-1
 

حسرتیں تمام ہو جائیں
لوٹ آؤ اس پہلے کے شام ہو جائے

aasi-1
 

بہت یاد آتے ہو
اک بار لوٹ آؤ

aasi-1
 

چاروں طرف تنہائی ہے ایک اداسی چھائی ہے
سوچ کہ اس کی باتیں آنکھ میری بھر آئی ہے
بے چینی ہے سانسوں میں درد اٹھے سینے میں
بچھڑ کر اپنے دلبر سے مزا نہ آئے جینے میں
مجھ کو کتنا ستاتی ہے وہ لڑکی بہت یاد آتی ہے
کبھی مجھ کو ہنسائے کبھی مجھ کو رولائے
مجھے کتنا رولاتی ہے
وہ لڑکی بہت یاد آتی ہے

Kashmir
a  : تم ایک مٹاؤ گے ہم ہزار نکلیں گئے ہر طرف سے آزادی کے طلبگار نکلیں گے یہ جان - 
aasi-1
 

نہ جھانکو آج دریچوں سے دروازہ کھلا ہے ، آ جاؤ
کبھی استقبال جو کرتا تھا ، بیمار پڑا ہے ، آ جاؤ
ماتھے پہ پسینہ یادوں کا ، دل میں ہے بلا کی بے چینی
دیدار کی حسرت آنکھوں میں ، ہونٹوں پہ دعا ہے ، آ جاؤ
ہاتھوں کی لکیریں نظروں کو کچھ بدلی بدلی لگتی ہیں
کچھ رشتہ بُرج ستاروں کا تبدیل ہوا ہے ، آ جاؤ
ہاں تم نے کہا تھا جب جانا ، کوئی چیز نشانی لے جانا
سانسوں کا سفینہ ساحل پہ تیار کھڑا ہے ، آ جاؤ
کافر ہو جو آپ کے وعدے پر شاکر یقین نہ کرے
احساسِ کے ہاں امیدوں کا دم ٹوٹ رہا ہے آ جاؤ
Sachi

Haan Maine yeah mane liya Hai
a  : Haan Maine yeah mane liya Hai - 
aasi-1
 

آج دیکھا میں نے خمار محبت کا
میں اکیلا ہی نہیں تھا بیمار محبت کا
میں خالی ہاتھ تھا سو خرید نہ سکا
شہر بھر میں ہوتا رہا کاروبار محبت کا
جذبوں میں صداقت ہو تو نظر آتی ہے
لفظوں سے ممکن کہاں اظہار محبت کا
یوں سر بازار تو نہ گنواہ خامیاں میری
کچھ بھرم ہی رکھ لے یار محبت کا
نزاع تک تو پہنچ آیا ہوں عاصی~
اور کہاں تک کرتا اعتبار محبت کا

aasi-1
 

اس سے کہو کہ حال اچھا نہیں ہے بیمار کا
اس سے کہو کہ مجھ سے رابط کرے

aasi-1
 

جو یاد ہے مجھ کو
وہ بھول گیا ہے مجھ کو

aasi-1
 

جب مجبور ہو جاؤں گا
تم سے بہت دور ہو جاؤں گا
تب تم میری تربت پر اک چراغ جلا دینا
تم رونے نہیں بلکے میری میت پر مسکرا دینا

aasi-1
 

اک امید پر ہے قائم زندگی
وہ امید بھی اک دھوکا ہے
یہ وفا تو اک کتابی لفظ ہے
یہاں ضرورت نے سب کو روکا ہے

aasi-1
 

تم اس مسافر کا دکھ سمجھتے ہو
جسے رستہ خود ہی چھوڑ دے

aasi-1
 

آج سب کچھ ہے کل کچھ بھی نہیں ہے
اس محبت کا حل کچھ بھی نہیں ہے
میں یہ نہیں کہتا کہ خواب مت دیکھو
لیکن یہ خواہشوں کا جنگل کچھ بھی نہیں ہے
وہ باتیں وفا کی کرتے ہیں ہزارہا لیکن
اس پر عمل کچھ بھی نہیں ہے
سورج چاند ستارے ہجر وصل محبت
سب ادھورے ہیں مکمل کچھ بھی نہیں ہے
یہ کار محبت بھی اک اذیت ہے
اور اس کا پھل کچھ بھی نہیں ہے
وہ بے خبر سا بنا رہتا ہے میرے حال سے
حالانکہ اس آنکھ سے اوجھل کچھ بھی نہیں ہے

aasi-1
 

Meri aik nazam last part
خدا جانے وہ کس حال میں ہو گی لیکن
میرے ذہن سے وہ آخری ملاقات نہیں نکلی
آج بھی میں اس کو یاد کرتا ہوں
ہر شعر ہر غزل ہر نظم میں اسے پکارتا ہوں
وہ جو سرگوشی بھی سن لیتی تھی میری
اب میری پکار بھی سنتی نہیں ہے
آج میں سمجھا ہوں نہ ہونے کی اذیت کو
لیکن یہ سمجھنے میں بہت دیر کر دی میں نے
وہ مجھ بن ادھوری تھی لیکن
میں بھی اس کے بغیر ادھورا ہوں
وہ تب ادھوری تھی لیکن
میں تب بھی ادھورا تھا اب بھی ادھورا ہوں

aasi-1
 

Meri aik nazam part 2
سن کر میری یہ باتیں وہ
فقط مسکرا ہی پائی تھی
اس کی اس مسکراہٹ میں
اک انتہا کی اذیت تھی
اور پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد
اس نے مجھ سے کہا
کہ دیکھنا مدتوں بعد
تم مجھ کو پکارو گے لیکن
میں تب تمہاری پکار پر بھی نہ پلٹوں گی
جب تم نہ ہونے کی اذیت کو سمجھو گے
تب تم سمجھو گے بے بسی میری
آج میں ادھوری ہوں تم بن لیکن
تب تم بھی ادھورے ہو گے مجھ بن
کافی عرصہ بیت گیا ہے اور
پھر کبھی ہم ملے نہیں ہیں