اپنی موج میں بہتا تھا بس روتا رہتا تھا
کسی کچھ نہ کہتا تھا بس روتا رہتا تھا
اس دنیا سے بے خبر وہ خود میں مگن
نجانے کیا غم سہتا تھا بس روتا رہتا تھا
کچھ اس طرح سے آزمایا گیا مجھے
تیرے نام لے لے کر ستایا گیا مجھے
میں جانتا ہوں یہ فریب ہے حیات کا
اک ٹوٹا ہوا خواب دکھایا گیا مجھے
پہلے سمیٹا گیا میری کرچیوں کو
پھر تمناؤں کی آگ میں جلایا گیا مجھے
پھر پلٹا ہی نہیں میں کبھی اس طرف
تیری محفل سے ایسے اٹھایا گیا مجھے
بروزِ حشر یہ شکوہ کروں گا میں خدا سے
اک شخص کے لیے اتنا کیوں ترسایا گیا مجھے
نہ پوچھ کیسے جھیلے ہیں تیرے ستم اے زندگی
تھوڑا ہنسا ہوں اور زیادہ رولایا گیا مجھے
پھر لگا یہ فتویٰ کہ مرنا حرام ہے عاصی~
پہلے مقام خود کشی تک لایا گیا مجھے
چہرے پے کھلتی ہے ہنسی بھی
اور درد بھی اٹھتا ہے سینے سے
اک تصویر تھی بجھی سی وہاں
کل شب میں ملا تھا آئینے سے
سمجھ آتی نہیں ہے کے ہوا کیا
میں بدلا بدلا سا ہوں کچھ مہینے سے
زندگی سے محبت بھی بہت ہے لیکن
دل بھی بیزار سا رہتا ہے جینے سے
میری باتوں کی تلخی پر نہ جا میرے حالات پڑھ
تجھے کیا بتاؤں کس کس کا ستایا ہوا ہوں میں
میں میسر نہیں ہوں ایک جیسا ہر کسی کو
تو ویسا مت ڈھونڈ جیسا بتایا ہوا ہوں میں
کوئی اور کردار رکھ تو میرا اپنی کہانی میں
اس محبت سے تو پہلے ہی اکتایا ہوا ہوں میں
کبھی کبھی کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن وہ سننے والا دستیاب ہی نہیں ہوتا جس سے ہم سب کچھ کہہ سکیں
منتظر بیٹھا کوئی سوچ رہا ہے کب سے
کاش لاہور سے افطار کی دعوت آ جائے
تو جب پہلی بار مجھے ملا تھا میرے دوست
مجھ کو تو اپنا سا لگا تھا میرے دوست
یاد تو کر ان گزرے ہوئے لمحوں کو
جب ہم نے عہد وفا کیا تھا میرے دوست
جب چاہے جہاں چاہے چھوڑ کر جا سکتا ہے تو
میں نے تجھ سے یہ کہا تھا میرے دوست
بے خیالی میں سن کر میری یہ باتیں
تو بھی بہت دیر تک ہنسا تھا میرے دوست
زندگی کے اس گمنام سفر میں ساتھ میرے
چند قدم تو بھی چلا تھا میرے دوست
پھر راستے ہی جدا کر لیے تھے ہم نے
سفر وفا میں تو تھک گیا تھا میرے دوست
آج تیرا خط دیکھا تو تو یاد آیا عاصی~
سچ! میں تجھے بھول گیا تھا میرے دوست
زمانے کو زمانے کی پڑی ہے۔۔۔
مجھے وعدہ نبھانے کی پڑی ہے۔۔۔
یہ دنیا چاند پر پہنچی ہوئی ہے۔۔۔
اور مجھے لاہور جانے کی پڑی ہے۔❤
New ghazal
چہرے پے کھلتی ہے ہنسی بھی
اور درد بھی اٹھتا ہے سینے سے
اک تصویر تھی بجھی سی وہاں
کل شب میں ملا تھا آئینے سے
سمجھ آتی نہیں ہے کے ہوا کیا
میں بدلا بدلا سا ہوں کچھ مہینے سے
زندگی سے محبت بھی بہت ہے لیکن
دل بھی بیزار سا رہتا ہے جینے سے
سنو......!
اپنی ڈائری کے
کسی بھی ایک ورق پہ
میرا نام تحریر کر لو
میں ڈرتا ہوں
کہ جب میں نہیں رہوں گا
تجھ سے بہت دور چلا جاؤں گا
کہیں تم مجھے بھول نہ جاؤ...
ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﺐ ﺳﮯ " ﮐُﻦ " ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ،ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ
ﻟﯿﮑﮭﮏ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﮭﺮﺍ ﺗﻮ ﮐﺘﮭﺎ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺭﮎ!
ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ
ﮨﺮ ﺷﺐ ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﺑﺠﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﻨﺪ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ
ﺍﮎ ﺷﺐ ﻭﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ
ﺟﺎﻧﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﭼﻮﮐﯿﺎﮞ، ﻋﺮﺵِ ﺑﺮﯾﮟ ﺗﻠﮏ .؟
ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ؟
ﻣﯿﮟ ﻻﻋﻼﺝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﻮﮞ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ
ﺍﮎ ﺩﻥ، ﺑﻨﺎ ﺑﺘﺎﺋﮯ، ﺩﻭﺍ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ
ﮔﺮﯾﮯ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﻏﻢ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﺬﺍ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﭘﮧ ﺳﺐ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺗﮭﮯ، ﺍﻭﺭ
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ
تھک سا جاتا ہوں میں جھوٹ بولتے ہوئے
بعد تمہارے جب کوئی میرا حال پوچھتا ہے
دل ایک بات پر دکھتا ہے اور یاد ہر بات آ جاتی ہے
میں جیت کے قریب ہوتا ہوں قسمت میں مات آ جاتی ہے
ہمارے پاس بتانے کو کچھ نہیں باقی
ہمارے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا آخر
ہنسو ہنسو تمہارے تو خیر لاکھوں ہیں
ہمارا ایک تھا وہ بھی کھو گیا اخر
تب میں لفظوں کے معنوں میں الجھ جاتا تھا
اب تو لہجوں کی اذیت بھی سمجھ لیتا ہوں
مجھے خاموشی پسند ہے اسے شور اچھا لگتا ہے
میں کشمیر چھوڑ نہیں سکتا اسے لاہور اچھا لگتا ہے
یہ دیکھو میری خستگیاں ان چاہتوں میں
میں اس پر مرتا ہوں اسے کوئی اور اچھا لگتا ہے
پهر مجھے نہلایا جائے گا
اشک میری میت پر بہایا جائے گا
نیا لباس مجھے پہنایا جائے گا
پهر جب میرا جنازہ اٹھایا جائے گا
چھوڑ کر تجھے بے خبر جاؤں گا
تیرے بعد مر جاؤں گا
پهر جنازہ میرا جنازہ پڑها دیا جائے گا
میری میت کو دفنا دیا جائے گا
اک چراغ میری قبر پر جلا دیا جائے گا
پهر اس کے بعد مجھے بھلا دیا جائے گا
پهر حاصل سکون زیرِ قبر جاؤں گا
تیرے بعد مر جاؤں گا
چھوڑ کر جب میں یہ جہاں جاوںگا
سوچتا ہوں پهر میں کہاں جاؤں گا
پلٹ کر نہ آؤں گا وہاں جاؤں گا
اپنے بعد چھوڑ اپنی داستاں جاؤں گا
آنکھیں اشکوں سے بھر جاؤں گا
تیرے بعد مر جاؤں گا
نہ کروں گا اب کوئی بہانے جاؤں گا
جو غمِ دہر میں گزری بتانے جاؤں گا
خدا کے سامنے اشک ندامت بہانے جاوں گا
پهر داستان دل خدا کو سنانے جاؤں گا
خدا سے ملنے راہ سفر جاؤں گا
تیرے بعد مر جاؤں گا
ہو کر یہاں سے بے اثر جاؤں گا
کسی کی تو ممنون نظر جاؤں گا
کیا پتا پهر کدھر جاؤں گا
لگتا ہے تیرے بعد مر جاؤں گا
تیرے بعد مر جاؤں گا
کیسے منائیں یہ رسم و تہوار سارے
دل بھی گھائل ہے جسم بھی بیمار سارے
کوئی بھی آیا نہ عیادت کو ختم ہوئے انتظار سارے
وقت آخری ہے شاید کرا دو دیدار سارے
شاید وقت سے پہلے ہی گزر جاؤں گا
تیرے بعد مر جاؤں گا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain