اسے کہنا میں یکسر بدل گیا ہوں
میں اب پہلے سا اداس بالکل بھی نہیں رہا
میں دن اکثر بے تکی باتیں کرتا رہتا ہوں
میں اب اکثر ہنس بھی لیتا ہوں
میں اب پہلے سا بالکل بھی نہیں رہا مگر
شام ہوتے ہی اک خلش دل میں اٹھتی ہے
پھر وہ خلش اک گہری اداسی بن جاتی ہے
پھر رات اشک بھی ملنے آ جاتے ہیں
پھر میں روتے روتے سو جاتا ہوں
اسے کہنا میں پہلے سا بالکل بھی نہیں رہا
صبح جاگتا ہوں تو اک تھکن سی ہوتی ہے
آنکھوں میں خوابوں کی کرچیاں ہوتی ہیں
زندگی اسی معمول پر گزر رہی ہے مگر
اسے کہنا میں یکسر بدل گیا ہوں جاناں
اسے کہنا میں اکثر اب اداس نہیں رہتا
لبوں سے لفظ جھڑیں آنکھ سے نمی نکلے
کسی طرح تو مرے دل سے بے دلی نکلے
میں چاہتا ہوں کوئی مجھ سے بات کرتا رہے
میں چاہتا ہوں کہ اندر کی خاموشی نکلے
: اک رشتے کو لاپرواہی لے ڈوبی
اک رسی ڈھیلی پڑنے پر ٹوٹی ہے
✍️🖤🦋👀
کون جھانکے ہماری آنکھوں میں!!
کون سمجھے اداسیاں دل کی..!!
بن تری دید کے کس طرح گزارہ ہو گا
تو نہ ہو گا تو مجھے کس کا سہارا ہو گا
آ! گلے مِل کے ابھی ہجر کا ماتم کر لیں
کس کو معلوم؟ کہاں میل دوبارہ ہو گا
یا تری دید کی خواہش نے چمک بخشی ہے
یا رہِ خاک نے چہرے کو نکھارا ہو گا
آج کس منہ سے گلہ کرتے ہو لُٹ جانے کا
میں نا کہتا تھا محبت میں خسارہ ہو گا
ہر نئے سال یہاں بانس نئے اُگتے ہیں
اِس جگہ دفن کوئی درد کا مارا ہو گا
زندگی عجز کے لمحوں میں گزارو اپنی
وقت کے شاہ بنو گے تو خسارہ ہو گا
بے سبب دل کا دھڑکنا نہیں ممکن نازشؔ!
بھول کر اس نے ترا نام پکارا ہو گا
السلام علیکم
کیسے ہیں آپ سب امید کرتا ہوں سب خیریت سے ہوں گے ۔
مورخہ 29 جون میرا جنم دن ہے ۔ اج کے دن میرے لیے کوئی نظم شعر دعا یا نصیحت ۔ جو آپ کو اچھا لگے وہ کمنٹ کر سکتے ہیں شکریہ والسلام
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارہ کیا ہے
دیکھ اے عمر رواں خواہیشںں رہ جائیں گی
تم گزر جاوگی چپکے سے تمھارا کیا ہے
بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا ، لوگو
خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پہ لکھا تھا، لوگو
اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا ، لوگو
اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کِسی وقت میں اپنا ، لوگو
دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا ، لوگو
رات وہ درد مرے دل میں اُٹھا
صبح تک چین نہ آیا ، لوگو
پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہُوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا ، لوگو...!
ہم آج بھی ہیں سوچ میں ڈوبے ہوئے محسنؔ
خود سے کبھی دنیا سے روٹھے ہوئے محسنؔ
دینے کے لئے اس کو، جو ہم نے سنبھالے تھے
وہ پھول کتابوں میں ہیں، سوکھے ہوئے محسنؔ
وہ اپنی جفاؤں میں کچھ کمی تو کریں آج
اک عمر ہوئی شہر وہ چھوڑے ہوئے محسنؔ
ہم نے یہ کہا تھا کہ انہیں پیار ہے ہم سے
ہم آج بھری بزم میں جھوٹے ہوئے محسنؔ
آغوش میں ان کی ہمیں راحت جو ملی ہے
ہم آج کچھ اندر سے ہیں ٹوٹے ہوۓ محسن...!
کہاں ہم؟؟
کہاں محبت؟؟
جانے دیجئے , رہنے دیجئے ,
بس کیجئے...!
یہ جو "ع"
یہ جو "ش"
یہ جو "ق" کرتا ہے!!
یہ لاحق جس کو ہو جائے
اسے برباد کرتا ہے.. !!
ریاضی دان بھی حیران ہیں
اس بات پہ آ کر...!!
یہ کس کلیے کی نسبت سے
جفت کو طاق کرتا ہے..!!