السلام علیکم
کیسے ہیں آپ سب امید کرتا ہوں سب خیریت سے ہوں گے ۔
مورخہ 29 جون میرا جنم دن ہے ۔ اج کے دن میرے لیے کوئی نظم شعر دعا یا نصیحت ۔ جو آپ کو اچھا لگے وہ کمنٹ کر سکتے ہیں شکریہ والسلام
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارہ کیا ہے
دیکھ اے عمر رواں خواہیشںں رہ جائیں گی
تم گزر جاوگی چپکے سے تمھارا کیا ہے
بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا ، لوگو
خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پہ لکھا تھا، لوگو
اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا ، لوگو
اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کِسی وقت میں اپنا ، لوگو
دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا ، لوگو
رات وہ درد مرے دل میں اُٹھا
صبح تک چین نہ آیا ، لوگو
پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہُوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا ، لوگو...!
ہم آج بھی ہیں سوچ میں ڈوبے ہوئے محسنؔ
خود سے کبھی دنیا سے روٹھے ہوئے محسنؔ
دینے کے لئے اس کو، جو ہم نے سنبھالے تھے
وہ پھول کتابوں میں ہیں، سوکھے ہوئے محسنؔ
وہ اپنی جفاؤں میں کچھ کمی تو کریں آج
اک عمر ہوئی شہر وہ چھوڑے ہوئے محسنؔ
ہم نے یہ کہا تھا کہ انہیں پیار ہے ہم سے
ہم آج بھری بزم میں جھوٹے ہوئے محسنؔ
آغوش میں ان کی ہمیں راحت جو ملی ہے
ہم آج کچھ اندر سے ہیں ٹوٹے ہوۓ محسن...!
کہاں ہم؟؟
کہاں محبت؟؟
جانے دیجئے , رہنے دیجئے ,
بس کیجئے...!
یہ جو "ع"
یہ جو "ش"
یہ جو "ق" کرتا ہے!!
یہ لاحق جس کو ہو جائے
اسے برباد کرتا ہے.. !!
ریاضی دان بھی حیران ہیں
اس بات پہ آ کر...!!
یہ کس کلیے کی نسبت سے
جفت کو طاق کرتا ہے..!!
وہ بھی چپ چاپ سا کہیں بیٹھ کے روتا ہو گا
میں بھی راتوں کو ذرا دیر سے گھر جاتا ہوں ،
میں نے بھی جرمِ بغاوت کے سِتم جھیلے ہیں
میں بھی اب لوگ جدھر جائیں ادھر جاتا ہوں🚬
میری بربادیوں کا حال نہ پوچھ
غم کے قصے دراز ہوتے ہیں
چھیڑ کر دیکھ تو سہی دل کو
سوز میں کتنے ساز ہوتے ہیں
میں چاہتا ہوں کہ کوئی مجھ سے بولتا رہے اور میں اسے چپ چاپ سُنتا رہوں
وہ تب تک بولتا رہے جب تک میرے اندر سے خاموشی نکل نہ جائے
قفس کا بوجھ پرندے کی سانس روکتا ہے
تمہاری یاد خلل ڈالتی ہے کاموں میں
وقت پھر ایسا بھی آیا کہ اسے ملتے ہوئے
کوئی آنسو نہ گرا کوئی تماشا نہ ہوا
میری حالت پہ تمہیں ترس نہیں آتا کیا
تمہیں دِکھتے نہیں آنسوں میری نگاہوں میں
دیکھنا ترسو گے اُس دن بات کرنے کو مگر ہم
چُپ سے بے جان پڑے ہونگے تیری بانہوں میں
زندگی اور ہیں کتنے ترے چہرے یہ بتا
تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شناسائی ہے